Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

تعریف :۔  جس  حدیث میں آخر  سند سے تابعی  کے بعد راوی  غیر  مذکور ہو ۔

 مثال۔  عن سعید بن المسیب ان  رسول صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم قال: من اکل من ہذہ الشجرۃ فلا یقرب مسجدنا۔( ۶۰)

        حضرت  سعید بن  مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ   رسول اللہ صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اس درخت ( کچی  پیاز ااور لہسن) سے کچھ کھایا  وہ ہماری مسجد  کے قریب نہ  آئے۔

 مرسل  نزد فقہاء و اصولیین:۔ جس حدیث کی سند متصل نہ ہو ،  خواہ ایک  راوی  غیر  مذکور

ہو یا سب،   پے د رپے یا الگ الگ۔ گویا  سقوط سند کی تمام صورتیں انکے نزدیک  مر سل ہیں ۔

 حکم:۔ مر سل  در حقیقت ضعیف مردود اور غیر مقبول  ہے، کہ قبولیت کی ایک شرط اتصال سند

سے خالی  ہے ،  جمہور محدثین  اور ایک جماعت اصولیین  و فقہا کا یہ ہی مسلک ہے۔

        امام اعظم ، امام  مالک،   اور امام احمد کا قول مشہورمیں  نیز  ایک  جماعت علماء کے نزدیک  مقبو ل  اور لائق احتجاج ہے بشرطیکہ  ارسال کرنے  والا ثقہ  اور کسی معتمد ہی سے ارسال کرے،   اس لئے کہ ثقہ  تابعی جب تک کسی  اپنے  جیسے ثقہ      سے کو ئی بات نہ سنے تو براہ  راست حضور نبی کریم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں کرتا۔   یہ ہی وجہ   ہے کہ  حضرات تابعین  مرسل پر نکیر نہیں کر  تے  تھے۔

        امام شافعی   اور بعض علماء کے نزدیک  چند شرطوں سے مقبول ہے۔

٭    ارسال کرنے والا اکابر تابعین  سے ہو ۔

٭    غیر مذکور راوی کی  تعیین میں ثقہ  ہی کا نام لیا جائے۔

 ٭    معتمد حفاظ  حدیث کسی  دوسری  سند سے  روایت کریں تو اسکے مخالف نہ  ہو۔

٭     کسی دوسری سند سے متصل ہو۔

 ٭    کسی  صحابی  کے قول کے موافق ہو۔

 ٭    اکثر اہل علم  کے نزدیک  اسکے مضمون پر فتوی ہو۔

       اگر صحیح حدیث ایک طریق سے مروی  ہو لیکن مرسل کے مخالف،  اور مرسل او ر اسکی مؤید علیحدہ  سند سے 



Total Pages: 604

Go To