Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

              جذامی سے اس طرح  بھاگو جس طرح شیر سے ۔

        دونوں احادیث اگر چہ بظاہر مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے معارض، کیونکہ  پہلی حدیث سے ثابت کہ  بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، جبکہ  دوسری حدیث سے کسی کو  وہم ہو سکتا ہے کہ  بیماری کے اڑ کر لگنے کی  بنا پر  ہی جذامی سے دور بھاگنے کا حکم ہے ،  امام احمد رضا قدس سرہ  دونوں کی جمع  و تطبیق کے سلسلہ میں  فرماتے ہیں ۔

        پہلی  حدیث اپنے افادہ میں صاف صریح ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، کوئی  مرض ایک سے  دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا۔ کوئی  تندرست بیمار کے قرب و اختلاط سے بیمار نہیں ہو جاتا۔

       پھر حضور  اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  واجلۂ صحابہ کرام  رضوان  اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین  کی عملی کا ر روائی کہ مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا، ان  کا جوٹھا پانی پینا، ان کا ہاتھ  اپنے ہاتھ سے پکڑ کر  برتن میں  رکھنا، خاص انکے کھانے کی جگہ سے نوالہ اٹھا کر کھانا، جہاں منہ  لگا کر  انہوں نے پانی پیا بالقصد  اسی  جگہ  منہ رکھ کر  نوش کرنا۔  یہ او ر بھی واضح کر  رہا ہے کہ  عدوی،  یعنی  ایک  کی بیماری دوسرے کو لگ جانا خیال  باطل ہے، ورنہ  اپنے کو بلا  کے لئے پیش کرنا شرع ہر گز روا نہیں  رکھتی ۔

       رہی دوسری  حدیث تو اس قبیل کی احادیث اس درجہ   عالیہ صحت  پر نہیں  جس پر احادیث نفی  ہیں۔  ان  میں اکثر ضعیف  ہیں اور بعض غایت درجہ حسن ہیں،  صرف حدیث مذکور کی تصحیح ہو سکتی ہے مگر وہی حدیث اس  سے اعلی وجہ  پر  جو صحیح بخاری میں آئی ۔ خود اسی میں ابطال عدوی موجود، کہ مجذوم سے بھاگو اور  بیماری اڑ کر نہیں لگتی،  تو یہ  حدیث  خود واضح کر رہی ہے کہ  بھاگنے کا حکم اس وسوسہ اور اندیشہ کی بنا پر نہیں ، معہذا صحت میں اس کا  پایا  بھی  دیگر احادیث  نفی سے  گرا ہو اہے ، کہ اسے امام  بخاری نے مسندا روایت  نہ کیا بلکہ بطور تعلیق۔

       لہذا کوئی  حدیث اصلا ثبوت عدوی  میں نص نہیں  ، یہ تو متواتر حدیثو ںمیں فرمایا کہ  بیماری اڑ کر نہیں لگتی، اور یہ کسی  حدیث میں بھی  نہیں آیا کہ  عادی طور پر  اڑ کر  لگ جاتی ہے۔

       قول مشہور  و مذہب جمہور و مشرب منصور کہ دوری  و فرار کا حکم اس  لئے ہے کہ اگر قرب و اختلاط رہا اور معاذ اللہ قضا وقدر سے کچھ  مرض اسے بھی  حادث ہو گیا  تو ابلیس  لعین  اس کے دل میں   وسوسہ ڈالے گاکہ  دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ۔

        اول تو  یہ ایک  امر باطل کا اعتقاد ہو گا۔  اسی قدر  فساد کے لئے  کیا کم تھا  پھر  متواتر حدیثوں میں سنکر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایاہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ،  یہ وسوسہ جمنا سخت خطرناک اور  ہائل



Total Pages: 604

Go To