$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

۱۔     یہ حدیث کے مرادف  وہم معنی  ہے ۔ عام علمائے فن کے نزدیک  یہ  قول ہی زیادہ پسندیدہ  ہے ۔

۲۔    حدیث کا مقابل ۔ یعنی اس سے  وہ امور مراد ہوتے ہیں جو حضور سید  عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے سے منقول ہوں ۔

۳۔     حدیث  سے عام ۔ یعنی ہر منقول چیز خواہ حضور سے منقول ہو یا غیر سے ۔

       بعض نے اس طرح بھی فرق بیان کیا ہے کہ جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین  رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مروی ہو  اسکو حدیث کہتے ہیں ، اور ملوک و سلاطین اور ایام گزشتہ کی حکایات کو خبر کہا  جاتا ہے۔ لہذا جو سنت کے ساتھ مشغلہ رکھتا ہے اسکو محدث کہتے ہیں ، اور جسکا مشغلہ تاریخ ہو اسکو اخباری کہتے ہیں ۔

       خبر میں اصولاً دو طرح کی تقسیم جاری ہوتی ہے:۔

۱۔    باعتبار مصدر ومدار ۔ یعنی اس ذات کے اعتبار سے جس سے وہ منقول ہے ۔

۲۔    باعتبار نقل ۔یعنی اس اعتبار سے کہ نقل درنقل ہم تک کس طرح پہونچی ۔

اقسام خبر باعتبار مدارو مصدر 

       اس اعتبار سے خبر کی چار اقسام ہیں ۔

       Xحدیث قدسی ۔      Xمرفوع ۔    Xموقوف ۔  X  مقطوع۔

       پہلی تین اقسام کی باعتبار  سند  دو دو قسمیں ہیں ۔

              متصل ۔         منقطع ۔

       مقطوع کو علی الاطلاق متصل نہیں کہتے  بلکہ  قید کے ساتھ  یوں کہا  جاتا ہے ۔

ہذا متصل  الی سعید بن المسیب ،او الی الزہری ، او الی مالک۔

 حدیث قدسی:۔ وہ حدیث  جسکے راوی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور نسبت اللہ تعالیٰ   کی طرف ہو۔

       حدیث قدسی  اور قرآن کریم میں متعدد  وجوہ سے فرق ہے۔

۱۔     قرآن کریم کے الفاظ و معانی دونوں  من جا نب اللہ ہوتے ہیں، بر خلاف حدیث قدسی کہ اس میںمعانی اللہ عزوجل کی جانب سے اور الفاظ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی  طرف سے۔

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html