Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

بھی خراج تحسین وصول کیا اور سب نے بالاتفاق  چودہویں صدی کا مجدد اعظم تسلیم کیا ۔

       آپ کے وصال اقدس کے بعد آپ کے فرزند اکبر حجۃ الاسلام نے اس منصب کو زینت بخشی اور پھر  باقاعدہ سیدنا حضور مفتی اعظم کو یہ عہدہ تفویض ہوا جس کا آغاز خود امام احمد رضا کی حیات طیبہ ہی میں ہو چکا تھا ۔

        آپ نے مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی نو عمری کے زمانے میں بغیر کسی کتاب کی طرف رجوع کئے تحریر فرمایا : تو اس سے متاثر ہو کر امام احمد رضا نے فتوی نویسی کی عام اجازت فرمادی اور مہر  بھی  بنو ا کر مرحمت فرمائی جس پر یہ عبارت کندہ تھی ’ ’ ابو البرکات محی الدین جیلانی آل الرحمن محمد عرف مصطفی رضا‘‘

        یہ مہر دینی شعورکی سند اور اصابت فکر کا اعلان تھی  ۔ بلکہ خود امام احمد رضا نے جب پورے ہندوستان کے لئے دار القضاء شرعی کا قیام فرمایا تو قاضی و مفتی کا منصب صدر الشریعہ  ، مفتی اعظم اور برہان الحق جبل پوری قدس اسرارہم کو عطا فرمایا ۔

        غرضکہ آپ نے نصف صدی سے زیادہ مدت تک لاکھوں فتاوی لکھے ۔ اہل ہندو پاک اپنے الجھے ہوئے مسائل آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے اور ہر پیدا ہونے والے مسئلہ میں فیصلہ کے لئے نگاہیں آپ ہی کی طرف اٹھتی  تھیں ۔ آپ کے فتاوی کا وہ ذخیرہ محفوظ نہ رہ سکا ورنہ آج وہ اپنی ضخانت و مجلدات کے اعتبار سے دوسرا فتاوی رضویہ ہوتا۔

تصنیفات و ترتیبات

        آپ کی تصانیف علم و تحقیق کا منارئہ ہدایت ہیں ۔ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں حق تحقیق ادا فرماتے ہیں ، فقیہ ملت حضرت مفی جلال الدین صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نے آپ  کی  تصانیف کا تعارف تحریر فرما یا ہے اسی کا خلاصہ ہدیۂ قارئین ہے ۔

۱۔    المکرمۃ النبویۃ فی اللفتاوی المصطفوی ( فتاوی مصطفویہ)

        یہ پہلے تین حصوں میں عالی جناب قربان علی  صاحب کے اہتمام میں شائع ہو اتھا ۔            اب ایک ضخیم جلد میں حضرت فقیہ  ملت   علیہ الر حمہ کی نگرانی میں رضا اکیڈمی بمبئی  سے شائع  ہو ا ہے جو حسن صوری و معنوی سے مالا مال ہے ۔

 



Total Pages: 604

Go To