Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

متزلزل ہوگئے لیکن ہر دور میں آپ  استقامت  فی الدین  کا جبل عظیم بن کر ان حوادث زمانہ  کا مقابلہ خندہ پیشانی  سے فرماتے رہے ۔

       آپ نے اس دور پر فتن میں نسبندی کی حرمت کا فتوی  صادر فرمایا جبکہ عموما دینی ادارے خاموش تھے ، یا  پھر جواز کا فتوی دے چکے تھے ۔

وصال:۔۔۱۳؍ محر الحرام ۱۴۰۲ ھ /        ۱۱ ؍نومبر ۱۹۸۱ ،بدھ کا دن گزار کر  شب میں ۱؍ بج کر چالیس منٹ پر ۹۲ سال کی عمر شریف میں وصال فرمایا اور جمعہ کی نماز کے بعد لاکھوں افراد نے نماز جنازہ اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں ادا کی اور امام احمد رضا کے پہلو  میںدفن کر دیا گیا ۔

 عبادت و ریاضت :۔ سفر و حضر ہر موقع پر کبھی آپ کی نماز  پنجگانہ قضا نہیں ہوتی تھی،ہر نماز

وقت پر ادا فرماتے ، سفر میں نماز کا اہتمام نہایت مشکل ہوتا ہے  لیکن حضر ت پوری حیات مبارکہ اس پر عامل رہے۔ اس سلسلہ   میں چشم دید واقعات لوگ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی ادائیگی و اہتمام کیلئے ٹرین چھوٹنے کی بھی پرواہ نہیں فرماتے تھے ، خود نماز ادا کرتے اور ساتھیوں کو بھی سخت  تاکید فرماتے۔

 زیارت حرمین شریفین :۔  آپ نے  تقسیم ہند سے پہلے دو مرتبہ حج و زیارت کیلئے سفر

فرمایا، اس کے بعد تیسری مرتبہ ۱۳۹۱ ھ / ۱۹۷۱ ء میں جب کہ فوٹو لازم ہو چکا تھا لیکن آپ اپنی حزم و احتیاط  پر قائم رہے لہذا  آپ کو پاسپورٹ وغیرہ ضروری پابندیوں سے مستثنی قرار دے دیا گیا اور آپ حج و زیارت کی سعادت سے سرفراز ہوئے ۔

  فتوی نویسی کی مدت : ۔آپ کے خاندان کا یہ طرئہ امتیاز رہا ہے کہ تقریبا ً ڈیڑھ سو سال سے

فتوی نویسی کا گراں قدر فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ ۱۸۳۱ ھ میں سیدنا اعلیٰ حضرت  قدس سرہ کے جد امجد امام العلماء  حضرت مفتی   رضا علی خاں صاحب قدس سرہ نے بریلی کی سر زمین پر مسند افتاء کی بنیاد رکھی ، پھر  اعلیٰ حضرت کے والد ماجد علامہ مفتی نقی علی خاں صاحب قدس سرہ نے یہ فریضہ انجام دیا اور متحدہ پاک و ہند کے جلیل القدر علماء میں آپ کو سر فہرست مقام حاصل تھا ، ان کے بعد امام احمد رضا قد س سرہ نے تقریبا نصف صدی تک علوم  و معارف  کے دریا بہائے اور فضل و کمال کے ایسے جوہر دکھائے کہ علمائے ہندہی نہیں بلکہ فقہائے حرمین طیبین  سے



Total Pages: 604

Go To