Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       نائب مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ۔

        میں گیارہ سال تین اہ خدمت میں رہا، اس مدت میں چوبیس ہزار مسائل لکھے جن میں کم از کم دس ہزار وہ ہیں جن پر حضور مفتی اعظم کی تصحیح و تصدیق ہے ۔ میں گھسا پٹا نہیں ، بہت سوچ سمجھ کر جانچ تول کر مسئلہ لکھتا تھا ، مگر واہ رے مفتی اعظم اگر ذرابھی غلطی ہے ، یا لوچ ہے ،یا بے ربطی ہے، یا تعبیرنا  مناسب ہے ،یا سوال کے ماحول کے مطابق جواب میں کمی بیشی ہے، یا کہیں   سے کوئی غلط فہمی کا ذرا  سابھی اندیشہ ہے تو فوراً اس پر تنبیہ فرماتے اور مناسب اصلاح فرماتے۔ تنقید آسان ہے مگر اصلاح دشوار، مگر ستر سالہ مفتی اعظم کا دماغ اور  علم ایسا جوان تھا کہ تنقید کے بعد فوراً  اصلاح فرمادیتے اور ایسی اصلاح کہ پھر قلم ٹو ٹ کر رہ جاتا ۔ بار ہا ایسا ہوتا کہ حکم کی تائید میں کہیں عبارت نہ ملتی تو میں اپنی  صواب دید سے حکم لکھ دیتا ۔ کبھی دور دراز کی عبارت سے تائید لاتا مگر مفتی اعظم ان کتابوں کی عبارت جو دارالافتاء میں نہ تھیں زبانی لکھوادیتے ۔ میں حیران رہ جاتا ،یا اللہ کبھی مطالعہ کرتے  دیکھا نہیں ، یہ عبارتیں زبانی کیسے یاد ہیں ۔

       مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب پورنوی رقمطراز ہیں:۔       

        آپ درس افتاء میں محض نفس حکم سے آگاہ نہیں فرماتے بلکہ اس کے مالہ و ماعلیہ کے

 تمام نشیب و فراز ذہن نشین کراتے، پہلے آیات و احادیث سے استدلال فرماتے ،پھر اصول فقہ سے اس کی تائید دکھاتے اور پھر قواعد کلیہ کی روشنی میں اس کا جائز ہ لے کر کتب فقہ سے جزئیات پیش فرماتے ۔ پھر مزید اطمینان کے لئے فتاوی رضویہ سے امام احمد رضا  کا ارشاد نقل فرماتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔

        یہ اقتباس آپ کی شان فقاہت اور کمال تبحر کا بین ثبوت اور اس بات کا روشن بیان ہیں کہ آپ مفتی ہی نہیں بلکہ مفتی ساز اور فقیہ ہی نہیںبلکہ فقیہ النفس تھے ۔

 مجاہدانہ زندگی :۔  آپ کی ۹۲ سالہ حیات مبارکہ میں زندگی کے مختلف موڑ آئے۔ کبھی

شدھی تحریک کا قلع قمع کرنے کیلئے جماعت رضائے مصطفی کی صدارت فرمائی اور باطل پرستوں سے پنجہ آزمائی کیلئے سر سے کفن باندھ کر میدان خارز ارمیں کود پڑے، لاکھوں انسانوں کو کلمہ پڑھایا  اور بے شمار مسلمانوں   کے ایمان کی حفاظت  فرمائی ۔ قیام پاکستان کے نعرے اور خلافت کمیٹی کی آوازیں بھی آپ کے دور میں اٹھیں اور ہزاروں شخصیات اس سے متاثر ہوئیں  ۔ نسبندی کا طوفان بلا خیز آپ کے آخری دور میں رونما ہوا اور بڑے بڑے ثابت قدم



Total Pages: 604

Go To