Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

        یعنی جوکہ اللہ کی شان ہے اوراس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں سو اس میں اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملاوے گو کیسا ہی بڑا ہو ۔ مثلا یوں نہ بولو کہ اللہ ورسول چاہے گا تو فلاں کام ہوجائے گا کہ سارا کاروبار جہان کا اللہ کے چاہنے سے ہوتاہے رسول کے چاہنے سے کچھ نہیںہوتا ۔تفویہ

       اب امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کی اس پر مضبوط دلائل کے ساتھ گرفتیں ملاحظہ کریں ۔

        فرماتے ہیں :۔

        ہم اس مطلب کی احادیث اول ذکرکریں پھر بتوفیقہ تعالیٰ ثابت کردکھائیں کہ یہ ہی حدیثیں اس (امام الوہابیہ ) کے شرک کا کیسا سر توڑ تی ہیں ۔

        اسکے بعد امام احمد رضا محدث بریلوی نے چند احادیث ذکر فرمائی ہیں جو مختصرا یوں

ہیں۔

       مسند احمدوسنن ابی دائود میں مختصر اور سنن ابن ماجہ میں مطولا بسند حسن یوں ہے ۔

       ان رجلا من المسلمین رایٔ فی النوم انہ لقی رجلا من اہل الکتاب فقال : نعم القوم انتم لولا تشرکون ، تقولون : ماشاء اللہ وشاء محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، وذکر ذلک للنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال :اما واللہ ان کنت لاعرفہا لکم ،قولوا : ماشاء اللہ ثم ماشاء محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

       یعنی اہل اسلام سے کسی کو خواب میں ایک کتابی ملا ، و ہ بولا : تم بہت خوب لوگ ہو اگر شرک نہ کرتے ، تم کہتے ہو : جو چاہے اللہ اور چاہیں محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، ان مسلم نے یہ خواب حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی : فرمایا: سنتے ہو ! خداکی قسم تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گذرتاتھا ، یوں کہاکرو : جو چاہے اللہ پھر جو چاہیں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ

 وسلم ۔

       سنن ابن ماجہ میں دوسری روایت ابن عباس سے یوں ہے ۔

       اذاحلف احدکم فلایقل ماشاء اللہ وشئت ، ولکن یقل ماشاء اللہ ثم شئت ۔

       جب تم میں کوئی شخص قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو چاہے اللہ اور میں چاہوں ۔ہاں یوں کہے کہ جوچاہے اللہ پھر میں چاہوں ۔

        تیسری روایت ام المومنین سے بنحوہ ہے ۔

       چوتھی روایت مسند احمد میں طفیل بن سخبرہ سے اس طرح آئی ۔ کہ مجھے خواب میں کچھ یہودی ملے، میں



Total Pages: 604

Go To