$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

نکل جائے ۔ ملاجی ان کے لئے ٹھیک دوپہر کا سایہ  بنا رہے ہیں اوروہ بھی  تھوڑانہ بہت آدھی مثل جبھی تو کہتے ہیں کہ وہابی ہوکر آدمی کی عقل ٹیلوں کا سایۂ زوال ہوجاتی ہے ۔

        لطیفہ ۔(۳)

       اقول :۔اور بڑھ کر نزاکت فرمائی ہے کہ:۔

        مساوات سایہ کے ٹیلوں کے مقدار میں مراد نہ ہو بلکہ ظہور میں یعنی پہلے سایہ جانب شرقی معدوم تھا اور مساوات نہ تھی ٹیلوں سے کیوںکہ وہ موجود تھے اور وقت اذان کے سایہ جانب شرقی بھی ظاہر ہوگیا پس برابر ہوگیا ٹیلوں کے ظاہر ہونے میں اور موجود ہونے میں نہ مقدارمیں اس جواب کی قدر ۔ (معیار الحق)

        ملاجی اپنے ہی ایمان سے بتادیں وقت ٹھنڈافرمایا یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ ان کے برابر آیا اس کے یہ معنی کہ ٹیلے بھی موجود تھے سایہ بھی موجود ہوگیا اگر چہ وہ دس گز ہوں یہ جَوبرابر۔ اے سبحٰن اللہ !اسے کیوں تحریف نصوص کہئے گا کہ یہ تو مطلب کی گھڑت ہے ۔ ایسا لقب تو خاص بے چارے حنفیہ کا  خلعت ہے ۔ ملاجی ! اگر کوئی کہے کہ میں ملاجی کے پاس رہا یہاں تک کہ ان کی داڑھی بانس برابرہوگئی تو اس کے معنی یہی ہوں گے نہ کہ ملاجی کا سبزہ آغاز ہوا کہ پہلے بانس موجود تھا اور ملاجی کی داڑھی معدوم ، جب رُواں کچھ کچھ چمکا چمکتے ہی بانس برابر ہوگیا کہ اب بانس بھی موجود،بال بھی موجود ۔ع

                     مرغک از بیضہ بروں آید ودانہ طلبد

              (مرغ جب انڈے سے باہر آتاہے تو دانہ طلب کرتا ہے )

  ۵۔ مختلف  روایا ت میں تطبیق

Y الامن والعلی میں بحوالۂ مشکوۃ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل فرمائی۔

        لاتقولوا ماشاء اللہ وشاء فلان ، ولکن قولوا ماشاء اللہ ثم شاء فلان ۔

       نہ کہو جو چاہے اللہ اور چاہے فلاں ۔ بلکہ یوں کہو جو چاہے اللہ پھر چاہے فلاں ۔

 اس حدیث کے ساتھ ایک منقطع روایت شرح السنۃ سے یوں مذکور ہے ۔ لاتقولوا :ماشاء اللہ وماشاء محمد وقولواماشاء اللہ وحدہ ، نہ کہو جو چاہے اللہ اور محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،یوں کہو کہ جو چاہے ایک اللہ۔

        اسی روایت منقطعہ کو نقل کرکے امام الوہابیہ تفویۃ الایمان میں لکھا تھا ۔

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html