$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

٭     کنز العمال  لعلی المتقی         ۱۸ جلدیں

٭      المعجم کبیر للطبرانی ۔          ۲۵ جلدیں

        اس عظیم ذخیرۂ  حدیث کا  استقصاء و احاطہ  اور پھر  استحضار یہ سب آپ   ہی کا حصہ  تھا۔ متعدد مقامات  پر  ایک وقت میں  ایک حدیث کے حوالے میں دس، بیس اور پچیس پچیس کتابوں کا تذکرہ اس بات کی غماز ی کر رہا ہے کہ بیک وقت آپ کے پیش نظر وہ تمام کتابیں  رہتی تھیں بلکہ گویا ان سب کو حفظ کر  لیا گیا تھا کہ جب جس مسئلہ میں ضرورت پیش آئی انکو فی البدیہ  اور برجستہ  تقریراً یا  تحریراً بیان  فرما دیتے  ۔حافظہ اللہ  تعالی  نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسا عظیم الشان عطا فرمایا تھا کہ جو کتاب ایک  مرتبہ  دیکھ لی حفظ ہو گئی ۔

        جس موضوع پر آ پ نے قلم اٹھایا احادیث کا وافر ذخیرہ  امت مسلمہ کو عطا  فرمایا، تحقیق کے  دریا بہائے۔ فتاوی رضویہ اور اسکے علاوہ تصا  نیف سے چند نمونے صرف علم حدیث  سے متعلق ملاحظہ فر مائیں۔ ہم اس مقالہ میں  علم حدیث  سے متعلق  چند حیثیات سے نمونے پیش کریں  گے۔ جن کا اجمالی خا کہ اس طرح ہے ۔

۱۔    کسی ایک موضوع سے متعلق احادیث

۲۔     حوالوں کی کثرت

۳۔    اصطلاحات حدیث کی  تحقیق و  تنقیح

۴۔     راویان حدیث پر  جرح وتعدیل

  ۵۔   روایات میں تطبیق           

                        ۱۔  کسی ایک موضوع سے متعلق احادیث

       امام  احمد ر رضا محدث بریلوی  قدس سرہ  العزیز سے  کسی  مسئلہ میں  سوا ل ہوا تو آپ نے قرآن کریم سے استدلال  کے بعد احادیث  سے استدلال فرمایا اور موضوع سے متعلق  احادیث کا وافر  ذخیرہ  جمع کر  دیا۔ مثلا

٭    حضرت حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے خلیفہ مولانا کرامت اللہ صاحب نے دہلی باڑہ ہندو رائو سے ۳۱۱ھ میں ایک استفتاء اس مضمون کا بھیجا کہ زید درود تاج وغیرہ پڑھنے کو شرک وبدعت کہتاہے کیوں کہ اس میں حضور سید عالم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کو ’’دافع البلا ء والوباء ‘‘ وغیرہ کہا گیا ہے جو کھلا شرک ہے  العیاذ باللہ ۔

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html