Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

آف ریاست ریواں مدھیہ پردیش لکھتے ہیں ۔

        اگر پیش ازیں کتابے دریں فن نیافتہ شود پس مصنف راموجد تصنیف ھذا می تواں

 گفت ۔

       اگر فن تخریج حدیث میں اور کوئی کتاب نہ ہو تو مصنف کو اس تصنیف کا موجد کہا جاسکتاہے ۔

        امام  احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ  سے ایک مرتبہ سوال ہوا  کہ آپ نے  حدیث شریف کی  کون کون سی کتابیں  درس کی  ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا :۔

       مسند  امام اعظم،  مؤطا امام محمد،  کتاب الآثار،  کتاب الخراج ، کتاب  الحج، شرح معانی الآثار،  مؤطا امام  مالک،  مسند امام شافعی ،  مسند امام احمد، سنن  دارمی، بخاری ، مسلم،  ابو داؤد،  ترمذی، نسائی ،  ابن ماجہ ، خصائص نسائی،  منتہی الجارود، علل متناہیہ ، مشکوۃ، جامع کبیر ،  جامع صغیر ، منتقی ابن  تیمیہ ، بلوغ المرام، عمل الیوم واللیلہ،الترغیب والترہیب ، خصائص کبری ، الفرج بعد الشدۃ،کتاب الاسماء و الصفات، وغیرہا۔ پچاس سے  زائد  کتب حدیث میرے  درس و تدریس  اور مطالعہ میں رہیں ۔

       امام احمد رضا نے چند کتب شمار فرما کرپچاس سے زائد کی  بات اجمالاً ذکر کر دی ، یعنی آگے شمار کر نے  کے لئے  میری تصانیف کا مطالعہ کروواضح ہو جائے گا  کہ  میں نے علم حدیث میں  کن کن  کتابوں کو پڑھا اور پڑھایا  ہے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں  جب  راقم الحروف نے  تلاش و جستجو شروع کی  تو اب تک  امام احمد رضا کی  ساڑھے  تین سو  کتب و رسائل  میں تقریباً چار سو کتابوں کے  حوالے احادیث  مبارکہ کے تعلق سے  ملے ۔ ان  تمام کتب کی تفصیلی فہرست جلد ششم  کے آخر میں  ملاحظہ  فرمائیں۔        

       حدیث کی یہ کتابیں  ابھی ہماری تحقیق و تلاش  کے مطابق  ہیں  ورنہ امام احمد رضا فاضل بریلوی کی  تمام تصانیف کی  تعداد تو تقریباً ایک ہزار ہے   تو ا بھی یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ حدیث کی تمام کتابوں کی تعداد جو انکے مطالعہ میں رہیں کتنی ہیں ۔

       ان تمام کتب  کے  حوالے  اس بات کی  بھرپور وضاحت کر  رہے ہیں کہ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کا علم حدیث میں مطالعہ  نہایت وسیع تھا۔ آپ نے  جن کتابوں کا بطور حوالہ  تذکرہ  فرمایا ہے  وہ کتابیں بھی کوئی معمولی ضخامت کی حامل نہیں  بلکہ بعض کتب دس، پندرہ ،  بیس ، اور پچیس  جلدوں پر  بھی مشتمل ہیں:۔  مثلا

 ٭     السنن  الکبری للبیہقی۔                دس جلدیں

 



Total Pages: 604

Go To