Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

پڑھاجاتا بلکہ اب ان تمام روایتی مجامع ومحافل سے نکل کر آپکے تبحر علمی کا ڈنکا پوری علمی دنیا میں بج رہا ہے ، کالج اور یونیورسٹیاں بھی انکی تحقیقات   نادرہ پر خراج عقیدت پیش کررہی ہیں ۔ پروفیسرو لکچرر حضرات بھی انکے علمی کارناموں پر ریسرچ اسکالروں سے پی ،ایچ ،ڈی کے مقالے لکھوارہے ہیں۔ ہندوپاک سے لیکر جامع ازہر تک ، بریطانیہ سے امریکہ تک پوری دنیا کے متعدد تحقیقی مراکز سیکڑوں افراد کو ایم فل اور پی ، ایچ ، ڈی کی ڈگریاں دے چکے ہیں ۔لیکن پھر بھی جو کچھ ہوا وہ آغاز باب ہے ۔

       ماہرین رضویات کا کہنا ہے کہ فرد واحد نے اتنا بڑا کام کردیا ہے کہ پوری ملت اسکو سمیٹ نہیں پارہی ہے ، جبکہ آج تک انکی سیرت وسوانح اور تحقیقی کاموں پر لکھی جانے والی کتابوں اور مقالوں کی کی تعداد بجائے خود ہزار سے تجاوز کرچکی ہے ۔

       اس محتصر میں ان تمام تفصیلات کی گنجائش  نہیں بلکہ اجمالی فہرست پیش کرنا بھی دشوار ہے ۔ یہاں صرف چند چیزوں کی نشاندھی مقصود ہے ۔

       تمام علوم اسلامیہ میں اصل قرآن وحدیث کا علم ہے جس میں  بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے مکمل اصول وقوانین موجود ہیں اور فقہ اسلامی نے زندگی کے ہر موڑ پر آنیوالی مشکلات کی گرہیں کھول کر لوگوں کیلئے آسانیاں فراہم کردی ہیں ۔

       امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی خاص  طورپر پوری زندگی انہی علوم کا سبق پڑھایا اور قوم مسلم کو غلط روی سے بچانے کیلئے انہی علوم کے ذریعہ ہدایت کی راہیں ہموار کیں ۔ آپ کا دور نہایت ناگفتہ بہ حالات سے دوچار تھا ۔ نئے نئے فرقے جنم لے رہے تھے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی تھیں ۔ دین اسلام کے نام پر ایسی باتیں سنائی جارہی تھیں جو سچے مسلمانوں کے سچے آباء واجداد نے بھی کبھی نہیں سنی تھیں ۔ نہ عظمت باری کا لوگوںکو خیال رہ گیا تھا  اور نہ تعظیم رسول کا پاس تھا ۔

       ہندوستان کی سرزمین خاص طور پر اس زمانہ میں مسلمانوں کی ابتلاء وآزمائش کے ماحول سے دوچار تھی ۔ انگریزوں نے تفریق بین المسلمین کیلئے جوچال چلی تھی وہ پورے طور پر کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی ، کچھ صاحبان جبہ ودستار کو خرید کر مسلمانوں کے قدیمی نظریات وعقائد کو مٹانے کی ناپاک سازش تیار کرچکے تھے  جس کی لپیٹ میں پورا ہندوستان تھا۔

       خداوند قدوس کا فضل بے پایاں تھا اپنے خاص بندوں پر جنہوں نے ان فتنوں کو روز اول ہی سے کچل



Total Pages: 604

Go To