Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

دولت عطا کرے، لیکن اس سے بھی بڑی بہت بڑی  مہربانی یہ ہے کہ اس مال کو راہ خدا میں خرچ کر نے کاحوصلہ بخشے۔ الحمد للہ کہ ہمدانی  صاحب پر اللہ تعالیٰ   کی اس بہت بڑی مہربانی کا بھر پور سایہ ۔ آپ اعلیحضرت کی کتابوں کی اشاعت  پر عظیم  سرمایہ خرچ کر نے  کا  بیڑا

اٹھا چکے  ہیں۔

       حضرت  مولانا حنیف صاحب  نے اس کتاب کی تیاری میں غیر معمولی محنت صرف کی ہے ۔ خیال فرمائیے۔ تقریباً ۳۷۰۰ حدیثوں کو اتنے ہی صفحات سے غورو خوص کے  ساتھ پڑھنا یہ بھی اہم کام ہے ۔ بعض حضرات کا تو پڑھنے سے ہی جی گھبراتا ہے ۔ پھر حدیثوں کو یونہی کیف ما اتفق نقل نہ کرنا بلکہ غور و فکر سے اسکو ابواب فقہپی کے تحت نقل کرنا، یہ پڑھنے سے بھی زیادہ اہم کام ہے کہ بعض حضرات پڑھ تو لیتے ہیں لیکن انہیں سلیقہ کے  ساتھ نقل کرنے میں بخار چڑھ جاتا

ہے ۔ اس طرح صفحات کو مرتب کرنا کتنا  زہرہ گداز کام ہے ۔

       آج کل حوالوں کی تخریج کا بھی رواج ہے ۔ مولانانے اس کا بھی التزام کیا ہے، چلئے اچھا کیا یہ بھی اہم کام ہے لیکن ایک دوکتابوں کا حوالہ نقل کردینے تو تصحیح نقل کی ذمہ داری سے عہد ہ بر آہو جاتے ، مگر مولانا نے تو حد کر دی ایک ایک حدیث کے حوالہ میں دس دس پندرہ پندرہ کتابوں کو  صفحات اور جلدوں کی قیدکے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اللہ اللہ کیا جان توڑ کوشس کی ہے ،   کہ دیکھنے والوں کا دم پھولنے لگے ۔ ہم پر بھی یہی کیفیت  طاری ہوئی، مگر یہ  سوچ کر طبیعت خوش ہوگئی کہ  یہ جاں گسل منزل گزر چکی ہے  اور مولانا فتح و کامرانی سے ہر ہر منزل کو طے کر چکے ہیں ۔دل باغ باغ ہوگیا اور زبان پر یہ مصرع آگیا ۔

              ع     سبحا ن اللہ ایں کار از تو آید و مراد ان  چنیں کند

       ابھی اس مرحلہ پر ہم خوب مسرور بھی نہ ہو پائے تھے کہ حوالہ کی کتابوں پر نظر پڑی ، یا اللہ یہ لاکھوں روپے کی کتابیں مولانا نے کہاں سے فراہم کیں جن سے حدیثوں کے حوالے فراہم ہوئے ہیں، جن میں کتنی کتابوں کے نام سے کان آشنا نہ تھے ۔ الحمد للہ کہ مولانا نے اس

مشکل پر بھی قابو پالیا تھا ۔                مشکلے نیست کہ آساں نہ شود              

                               مرد باید کہ حراساں نہ شود

       دیکھا جائے توایک طرح سے کام مکمل ہو گیا تھا مگرمولانا کا حوصلہ ہر منزل پر پہونچ کر

 



Total Pages: 604

Go To