Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

بہت پسند فرمایا اوردعائیں دیں ،اس سے معلوم ہوا کہ آپ اس کتاب کی

تصنیف سے جوانی ہی میں فارغ ہوچکے تھے ۔

خصائص سنن ۔امام ابودائود نے اپنی اس کتاب میں جمع و  ترتیب کے لحاظ سے جن اسالیب کو

اختیا ر کیا وہ بہت خوبیوں اور نکات پر مشتمل ہیں ۔آپ نے اہل مکہ کے نام جو مکتوب رسالہ مکیہ کے نام سے ارسال کیا تھا اس میں بہت سے شرائط ونکات کی طرف رہنمائی کی ہے ۔فرماتے

ہیں ۔

       آپ لوگوں نے مجھ سے احادیث سنن کے  بارے میں سوال کیا ہے کہ میں آپ کو بتائوں کہ اس میں درج شدہ کیا میرے نزدیک صحیح ترین احادیث ہیں ۔ تو سن لیجئے

 یہ تمام احادیث ایسی ہی ہیں ۔البتہ وہ احادیث جو دو صحیح طریقوں سے مروی ہوں اور ایک کا راوی اسناد میں مقدم ہو کہ اسکی سند عالی اور واسطے کم ہوں اور دوسرے کا راوی حفظ میں بڑھا ہوا ہو ایسی صورت میں اول الذکر طریقہ کو لکھ دیتاہوں ۔حالانکہ  ایسی احادیث کی تعدادبمشکل دس ہوگی ۔

       باقی مراسیل کا جہاں تک تعلق ہے تو پہلے زمانہ میں امام مالک ،سفیان ثوری اور امام اوزاعی وغیرہ ان سے استدلال کرتے تھے ، یہانتک کہ امام شافعی  اور امام احمد بن حنبل کا زمانہ آیا

اور انہوں نے یہ کلام کرنا شروع کیا ،اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی رضا نصیب فرمائے ۔

       میرا مسلک یہ ہے کہ جب کوئی مسند روایت مرسل روایت کے خلاف موجود نہ ہو یا مسند روایت نہ پائی جائے تو ایسی صور ت میں مرسل روایت سے استدلال درست ہے اگر چہ وہ متصل کی طرح قوی نہیں ہوتی ۔میں نے اپنی سنن میں متروک راوی کی روایت نہیں لی ہے ،اور اگر کوئی منکر حدیث آئی ہے تو میں نے اسکو بیان کردیا ہے ۔اس میں کوئی اور علت ہو تو اسکو بھی بیان کردیا ہے ۔جس حدیث کے بعد میں نے کچھ نہیں لکھا وہ صالح للعمل ہوتی ہے۔ میں نے

اس کتاب میں اکثر احادیث مشہور جمع کی ہیں۔

        میں نے کتاب سنن میں صرف احکام ہی کو تصنیف کیا ہے ، زھد اور فضائل اعمال سے  

متعلق احادیث نہیں بیان کی ہیں ۔ لہذا یہ چار ہزار آٹھ سو احادیث (۴۸۰۰) ہیں ۔

 



Total Pages: 604

Go To