$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

        ایک مرتبہ مشہور عارف باللہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری آپ سے ملاقات کیلئے حاضر ہوئے ،جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ کو نہایت خوشی ہوئی اور خوش آمدیدکہتے ہوئے تشریف لائے ۔ حضرت سہل نے کہا : اے امام ! ذرااپنی وہ مبارک زبان دکھائیں جس سے آپ احادیث رسول بیان کرتے ہیں تاکہ میں اس مقدس زبان کو بوسہ دوں ۔آپ نے زبان

منہ سے باہر نکالی تو انتہائی عقیدت سے آپ نے اسکو چوم لیا ۔

 وصال ۔ ۱۶؍ شوال ۲۷۵ھ بروز جمعہ وصال فرمایا اور بصرہ میں امام سفیان ثوری کے پہلو میں

مدفون ہوئے ۔

 

 

سنن ابی دائود

       آپکی پوری زندگی طلب حدیث اور مختلف بلاد کے سفر میں گذری لیکن اسکے باوجود آپ نے تقریباً بیس کتابیں تصنیف فرمائیں ۔ ان سب میں سنن ابی دائود کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی جو آپکے نام کو قیامت تک زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے ۔ تمام طبقات فقہاء میں مسلکی اختلا ف

کے باوجود یہ کتاب مقبول رہی ہے ۔

        حسن بن محمد بن ابراہیم کہتے ہیں : ایک بار میں نے خواب میں رسول اللہ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دیدارپرانوار کیا ،حضور فرمارہے تھے ،جو شخص سنن کا علم حاصل کرنا چاہے وہ سنن ابی دائود کا علم حاصل کرے ۔ حضور کے اس فرمان سے ظاہر ہوا کہ یہ کتاب  بارگاہ رسالت میں مقبول

ہے ۔

        پانچ لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے آپ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی جو اپنی نظیر آپ

ہے ،امام غزالی فرماتے ہیں :۔

       علم حدیث میں صرف یہ ہی ایک کتاب مجتہد کیلئے کافی ہے ۔

       آپ  نے یہ کتاب اپنے شیخ امام احمد بن حنبل کی حیات ہی میں لکھی اور مکمل کرکے پیش کی تو انہوں نے اسکو



Total Pages: 604

Go To
$footer_html