Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

        حافظ احمد بن حمدون کہتے ہیں ،امام ذہلی نے اسماء وعلل کے بارے میں جب ایک موقع پر سوالات کئے اور آپ نے جواب دینا شروع کئے توایسا محسوس ہورہاتھا کہ آپکے منہ سے جواب نہیں بلکہ کمان سے تیر نکل رہا ہو ۔

 شمائل وخصائل ۔ امام بخاری کے والد نہایت دولت مند اور امیر کبیر شخص تھے ،وراثت میں

کافی مال ملاتھا لیکن کبھی آپ نے خود تجارت نہیں کی بلکہ ہمیشہ بیع مضاربت پر رقم دیتے تھے ۔

 اس مال و متاع اور تمول کے باجود آپ نے ہمیشہ سادہ زندگی گذاری اور کفایت شعاری وجفاکشی اختیار کی اور علمی انہماک ہی پوری حیات آ پ کا مشغلہ رہا ۔سخاوت وفیاضی آپ کا عام شیوہ تھا ۔ عیش وعشرت سے ہمیشہ کوسوں دوررہے ۔عبادت وریاضت اور شب بیداری کرتے

اور کثرت سے نوافل پڑھتے ۔

 فقہی مسلک۔امام بخاری کی تصانیف میں اس بات کی صراحت تو نہیں کہ آپ کا فقہی

مسلک کیا تھا ، البتہ امام تاج الدین سبکی ،امام قسطلانی اور آخر میں نواب صدیق حسن خاں بھوپالی نے آپ کو ائمہ شافعیہ میں شمار کیا ہے ۔ لیکن یہ بات گویا طے شدہ ہے کہ آپ محض مقلد نہیں تھے بلکہ مجتہد فی المسائل تھے ۔آپ کی مثال شوافع میں ایسی ہی ہے جیسے امام ابوجعفر طحاوی کی احناف

میں ۔

       امام بخاری  کی مدح وثناء تلامذہ ،معاصرین حتی کہ اساتذہ نے بھی کی ہے جوآپکے علم

وفضل کا بین ثبوت ہیں ۔

       آپ نے پوری عمر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کی تلاش میں گذاری ،اگرچہ آپ کو کسی جگہ سکون سے بیٹھنے اور کام کرنے کا موقع نہیں ملا ، لیکن پھر بھی آپ نے تقریباً دودرجن کتابیں تصنیف فرمائیں ،ان میں صحیح بخاری کو شہرت دوام حاصل ہے اور آج

جسکو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

وصال :۔یکم شوال  ۲۵۶ھ کو باسٹھ سال کی عمر شریف  میں آپ کا وصال سمرقندکے قریب خرتنگ نامی بستی میں ہوا ۔آپ کی قبر انور سے ایک زمانہ تک مشک کی خوشبو آتی تھی اور دور دراز

سے لوگ آکر بطور تبرک لے جاتے تھے ۔

 



Total Pages: 604

Go To