Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

قوت حافظہ ۔امام بخاری کو اللہ رب العزت نے عظیم قوت حافظہ سے سرفراز فرمایا تھا ۔ آپکے

ساتھی حاشد بن اسمعیل کہتے ہیں : آپ ہمارے ساتھ بچپن میں حدیث کی سماعت کیلئے مشائخ بصرہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ،سب لوگ احادیث سنکر لکھتے لیکن آپ صرف سماعت کرتے ۔سولہ دن کے بعد ہم نے ان سے کہا : آپ بلاوجہ وقت ضائع کررہے ہیں کہ سب طلبہ کے برخلاف آپ سماعت پر تکیہ کرلیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اچھا آپ سب لوگ اپنے نوشتے

لائو اور مجھ سے  سنکر مقابلہ کرو ۔

       ہم نے ایساکیا،  سنکر ہماری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ ۱۶؍ایام میں حاصل شدہ پندرہ ہزار احادیث آپ نے فرفر سنادیں ،گویا معلوم ہوتاتھا کہ یہ سب روایات آپ نے ہی ہمیں املا

کرائی تھیں ۔

تعلیم کیلئے اسفار ۔ امام بخاری کے اساتذہ کی تعداد کثیر ہے ،آپ نے  شہر درشہر اور قریہ قریہ

سفر کرکے ائمہ کرام سے احادیث سماعت کیں ۔خود فرماتے ہیں ۔

       میں نے طلب علم میں مصر وشام کا دومرتبہ دورہ کیا ۔چارمرتبہ بصرہ گیا ،چھ سال حجاز

مقدس میں رہا ،  اور کوفہ وبغداد کا شمار نہیں کہ کتنی مرتبہ سفر کیا ۔

 علم وفضل ۔ آپ کو اللہ رب العزت نے قوت حافظہ کے ساتھ جودت ذہن اور نکتہ رس فکر  سے

بھی نوازاتھا ۔معاصرین نے بارہا آپ کا امتحان لیا لیکن ہرمرتبہ آپ کا میاب وفائزالمرام

رہے۔ روایتوں کے طرق پر آپ کو خصوصی طور سے  ملکہ تھا ۔

        بغداد شریف میں سواحادیث کی سندوں میں الٹ پھیر کی گئی لیکن آپ نے مجمع عام میں انکی تصحیح کرکے سب سے خراج تحسین حاصل کیا ۔سمرقند میں بھی چارسو محدثین نے آپ کو آزمانا

چاہا لیکن آپ نے تمام سندوں کے برمحل جواب عنایت فرمائے ۔

       علل حدیث کو فنون حدیث میں نہایت اہمیت حاصل ہے اور بہت مشکل فن سمجھا جاتا ہے حتی کہ عبدالرحمن مہدی کا کہنا ہے کہ یہ علم بغیر الہام حاصل نہیں ہوتا ۔لیکن آپ کو اس پر ایسا

عبورحاصل تھا کہ شاید وباید ۔

 



Total Pages: 604

Go To