Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       آیت ممتحنہ کی توضیح  میں اور اس کے پس منظر میںمسئلہ ترک موالات پر سینکڑوں صفحے کا

ایک مکمل رسالہ آپ کے حقیقت  نگار قلم کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

       یہ اور اعلیٰحضرت کی تحریریوں کے انبار میں اس موضوع سے متعلق بے شمار مواد ملے گا  جسے ترتیب اور سلیقہ سے ایک جگہ کتابی صورت  میں جمع کر کے شائع کر دیا جائے تو یہ ایک وقیع

تقریری وثیقہ ہوگا جس میں ریسرچ اسکا  لروں کے ساتھ عام مسلمانوں کا بھی بھلا ہوگا۔

       اسی طرح اذان میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام پاک سن کر انگوٹھے چومنے پھر انہیں آنکھوں سے لگالینے پر آپ نے ایک ضخیم رسالہ ’’ منیر العین ‘‘ تحریر فرمایا ۔ اصل موضوع اس کا بھی ایک مسئلہ فقہی ہے لیکن سو صفحات پر پھیلے ہوئے تیس افادوں میں ’’ اصول حدیث ‘‘ کے قواعد و ضوابط کا دل افروز بیان ہے ۔

       ’’ الہادی الحاجب‘‘ کا موضوع تو غائب کی نماز جناہ ہے۔ لیکن اس میں بھی’’ اصول

حدیث ‘‘ پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے ۔

       آپ کے ایک رسالہ کا نام ’’ حاجز البحرین ‘‘ ہے جس کا موضوع دو وقتوں کی نماز ایک ہی وقت میں جمع کرنے کا  حکم ہے ۔ اس مسئلہ میں دونوں فریق کا مستدل احادیث رسول اور فرمان خداوندی ہے ۔ اس لئے بات حدیث دانی کی چل نکلی ہے ، تو وہ پوری کتاب غیر مقلد صاحبان کے شیخ الکل مولوی نذیر حسین دہلوی کی بوالعجبیوںکا زعفران زار بن گئی  ہے ۔ان کے علاوہ’’  الہادی الکاف ، الفضل الموہبی ،   مدارج طبقات الحدیث ‘‘ وغیرہ اصول حدیث کے فن میں مستقل تصنیفیں ہیں ۔

       اگر ان سب حدیثی مباحث اور اس کے علاوہ آپ کے فتاوی اور مصنفات میں بکھرے ہوئے ہزارہا متفرق مضامین کو بھی ہنر مندی اور سلیقہ سے ترتیب دیکر شائع کیا جائے تو

اصول حدیث کا ایک مستند  ذخیرہ ہوگا، بالخصوص حنفی اصول حدیث کی برتری کا ایک نشان اعظم ۔   

       فن کلام میں ’’ المستند المعتمد‘‘ جملہ مسائل کلامیہ پر اور ’’سبحن السبوح ‘‘ مسئلہ کذب باری پر ’’الدولۃ المکیۃ ‘‘ مسئلہ علم غیب مصطفی پر ’’ سلطنۃ المصطفی‘‘ آپ کے اقتدار و اختیار پر ’’ الامن  و العلی‘‘ آپ کے خداد داد فضل و کمال پر ’’ حیاۃ الموات ‘‘ سماع موتی پر۔ آپ کی مستقل کتابیں   ہیں۔ اگر جملہ مسائل کلامیہ پر اعلیٰ حضرت کی تمام تحریروں کا استقصاء کیا جائے  تو فن

 



Total Pages: 604

Go To