Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

ولادت وتعلیم ۔غزہ کے مقام پر ۱۵۰ھ میں آپکی ولادت ہوئی ،کہتے ہیں خاص اس دن جس

دن امام اعظم کا وصال ہوا ۔

       آپکی والدہ حضرت فاطمہ بنت عبداللہ محض ہیں حضرت حسن مثنی کی پوتی اور سیدنا امام

حسن کی پرپوتی تھیں۔ ۔

       آپکے والد کا انتقال دوسال کی عمر ہی میں ہوگیا تھا ۔لہذا والدہ ماجدہ آپ کوصغر سنی میں

ہی وہاں سے مکہ لے آئیں اور آپ نے وہیں پرورش پائی ۔

       سن تمیز سے ہی علوم وفنون کی طرف توجہ شروع کردی تھی ،ابتداًء شعر،لغت اور تاریخ

عرب کی طرف توجہ تھی ،اسکے بعد تجوید قرأت اور حدیث وفقہ کی تحصیل شروع کی ۔

       بارہ سال کی عمر تک پہونچنے سے پہلے مؤطا کو حفظ کرلیا تھا اور اسکے بعد امام مالک کی خدمت میں پہونچے اور ان پر مؤطا کی قرأ ت کی ۔آپ علوم دینیہ کی طرف اپنے رجحان کا واقعہ

خود اس طرح بیان فرماتے تھے ۔

 علم فقہ کی طرف توجہ ۔ ایک دن میں ذوق وشوق سے لبید  کے اشعار پڑھ رہاتھا کہ ناگاہ

نصیحت آمیز غیبی آواز آئی ،اشعار میں پڑکر کیوں وقت ضائع کرتے ہو ،جائو جاکر فقہ کا علم حاصل کرو ۔فرماتے ہیں : میرے دل پر اس بات کا بڑا اثر ہوا اور میں نے مکہ جاکر سفیا ن بن عیینہ کی درسگاہ میں حاضری دی تھی ،انکے بعد مسلم بن خالد زنجی اور پھر مدینہ طیبہ حضرت امام مالک کی خدمت میں پہونچا ۔

اساتذہ ۔امام شافعی کا زمانہ حدیث وفقہ کے ائمہ کا نادر المثال دورہے ۔لہذا آپ نے اس

زمانہ کے جلیل القدر محدثین وفقہاء سے اکتساب علم کیا ،بعض کے اسماء یہ ہیں ۔

       امام سفیان بن عیینہ ،امام مالک ،مسلم بن خالد زنجی ،ابراہیم بن سعد ۔اسمعیل بن جعفر

،محمد بن خالد جندی ،ہشام  بن یوسف صنعانی ،امام محمد وغیرہم ۔

       آپ کے اساتذہ میں  جن کا رنگ آپ پر غالب نظر آتاہے وہ آخر الذکر امام اعظم ابوحنیفہ قدس سرہ کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی ہیں ۔کیونکہ امام شافعی کی والدہ سے آپ نے نکاح کرلیا تھا اوراپنا تمام مال اور کتابیں امام شافعی کے حوالہ کردی تھیں ۔امام محمد کی تصانیف کے مطالعہ سے ہی آپ میں فقاہت کا ملکہ پیداہوا ۔اسی فیضان



Total Pages: 604

Go To