Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       واللہ ! جب مجھ پر کوڑاپڑتا تھا میں اسکو اسی وقت حلال اور جائز کر دیتا تھا کہ اسکو حضور

اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قرابت ہے ۔

 وصال ۔یحیی بن یحیی  مصمودی بیان کرتے ہیں کہ جب امام مالک کا مرض وصال طویل ہوا اور وقت آخر آپہونچا تومدینہ منورہ اور دوسرے شہر وں سے علماء وفضلاء آپکے مکان میں جمع ہوگئے تاکہ امام مالک کی آخری ملاقات سے فیض یاب ہوں ۔میں باربار امام کے پا س جاتا اور سلام عرض کرتا تھا ۔کہ اس آخری وقت میں امام کی نظر مجھ پر پڑجائے اور وہ نظر میری سعادت اخروی کا سبب بن جائے ۔میں اسی کیفیت میں تھا کہ امام نے آنکھیں کھولیں اورہماری طرف

متوجہ ہوکر فرمایا : ۔

       اللہ تعالیٰ کا شکر جس نے ہم کو کبھی ہنسایا اور کبھی رلایا ،اسکے حکم سے زندہ رہے اوراسی کے حکم سے جان دیتے ہیں ۔اسکے بعد فرمایا: موت آگئی ،خدائے تعالیٰ سے ملاقات کا وقت

قریب ہے ۔

       حاضرین نے عرض کیا : اس وقت آپکے باطن کا کیا حال ہے ؟ فرمایا: میں اس وقت اولیاء اللہ کی مجلس کی وجہ سے بہت خوش ہوں ، کیونکہ میں اہل علم کو اولیاء اللہ شمار کرتاہوں ۔ اللہ   تعالیٰ کو حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد علماء سے زیادہ کوئی شخص پسند نہیں ۔نیز میں اس لئے بھی خوش ہوں کہ میری تما م زندگی علم کی تحصیل اور اسکی تعلیم میں گذری ہے ۔اور میں اس سلسلہ میں اپنی تمام مساعی کو مستجاب اور مشکور گمان کرتاہوں ۔اس لئے کہ تما م  فرائض اور سنن اور انکے ثواب کی تفصیلات ہم کو زبان رسالت سے معلوم ہوئیں ۔مثلا حج کا اتنا ثواب ہے اورزکوۃ کا اتنا ،اور ان تمام معلومات کو سواحدیث کے طالب علم کے اور کوئی شخص نہیں جان سکتا ۔

ا ور یہ ہی علم اصل میں نبوت کی میراث ہے ۔

        یحیی بن یحیی مصمودی کہتے ہیں : اسکے بعد امام مالک نے حضرت ربیعہ کی روایت بیان فرماتے ہوئے ارشا دفرمایا کہ میں نے اب تک یہ روایت نہیں بیان کی ہے ۔

       حضرت ربیعہ فرماتے ہیں کہ قسم بخدا ! کسی شخص کو نماز کے مسائل بتلانا روئے زمین کی تمام دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور کسی شخص کی دینی الجھن دورکردینا سوحج کرنے سے افضل ہے ۔اور ابن شہاب



Total Pages: 604

Go To