Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

        امام عبدالرزاق اورامام سفیان بن عیینہ نے فرمایا : اس حدیث کے مصداق امام مالک

ہیں ۔

 عشق رسول ۔آپکی شخصیت عشق رسالت سے معمورتھی ،مدینہ کے ذرہ ذرہ سے انہیں پیار

تھا ،اس مقدس شہر کی سرزمین پر کبھی کسی سواری پر نہ  بیٹھے اس خیال سے کہ کبھی اس جگہ حضورپیادہ

چلے ہوں ۔

       درس حدیث کا نہایت اہتمام فرماتے ،غسل کرکے عمدہ اور صاف لباس زیب تن کرتے   پھر خوشبو لگاکر مسند درس پر بیٹھ جاتے اور اسی طرح بیٹھے رہتے تھے ،ایک دفعہ دوران درس بچھو انہیں پیہم ڈنگ لگاتا رہا مگر اس پیکرعشق ومحبت کے جسم میں کوئی اضطراب نہیں آیا ،پورے انہماک واستغراق کے ساتھ اپنے محبوب کی دلکش روایات اور دلنشیں احادیث بیان کرتے

رہے ۔ جب تک درس جاری رہتا انگیٹھی میں عود اورلوبان ڈالاجاتارہتا ۔

ابتلاء ۔امام مالک کا مسلک تھا کہ طلاق مکرہ واقع نہیں ہوتی ۔انکے زمانہ کے حاکم نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا اور ان کو زدوکوب کیا ،اونٹ پرسوار کرکے شہر میں گشت بھی کرایا لیکن آپ

اس حال میں بھی بلند آواز سے یہی کہتے جاتے تھے :۔

       جوشخص مجھے جانتا ہے جانتاہے اور جو نہیں جانتا ہے وہ جان لے کہ میں مالک بن انس اصبحی ہوں ، اور میرامسلک یہ ہے کہ طلاق مکرہ واقع نہیں ہوتی ۔جعفر بن سلیمان تک جب یہ خبر

پہونچی تواس نے حکم دیا کہ اونٹ سے اتار  لیا جائے ۔

       بعض نے قصہ یوں بیان کیا ہے کہ جعفر بن سلیمان والی مدینہ سے کسی نے شکایت کردی کہ امام مالک آپ لوگوں کی بیعت کو صحیح نہیں سمجھتے  ،اس پر اسکو غصہ آیا اور آپ کو بلواکر  کوڑے لگوائے ،آپکو کھینچا گیا اور دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں سے اتروادیا ۔ان چیزوں سے آپکی

عزت ووقعت اور شہرت زیادہ ہی ہوئی ۔

 حلم وبردباری ۔ خلیفہ منصور جب حج کیلئے حرمین حاضرہوا تواس نے جعفر سے امام مالک کا

قصاص لینا چاہا تھا مگر آپ نے روک دیا اور فرمایا :

 



Total Pages: 604

Go To