Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

یعنی ایک سو دینار اور آٹھواں حصہ بیوی کا ہے یعنی پچھتر دینار۔ باقی رہے پچیس دینار۔اس سے بارہ بھائیوں کے

چوبیس دینار یعنی ہربھائی کو دودینار اورتم بہن ہوتمہاراایک دینار ہوا ۔

       امام ابویوسف بیان فرماتے ہیں : امام ابوحنیفہ سے کسی شخص نے کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنی بیوی سے بات نہیں کروں گا جب تک وہ مجھ سے بات نہ کرلے ،اور میری بیوی نے قسم کھائی کہ جومال میراہے وہ سب صدقہ ہوگا اگر وہ مجھ سے بات کرلے جب تک کہ میں اس سے بات نہ کرلوں ۔ابو حنیفہ نے اس شخص سے کہا ۔کیا تم نے یہ مسئلہ کسی سے پوچھاہے؟اس شخص نے کہا ۔میں نے سفیان ثوری سے یہ مسئلہ پوچھا ہے اورانہوں نے کہا ہے کہ تم دونوں میں سے جوبھی دوسرے سے بات کرے گا وہ حانث ہوجائیگا۔ابوحنیفہ نے اس شخص سے کہا :جائو اپنی بیوی سے بات کرو ،تم دونوں حانث نہ ہوگے ۔وہ شخص ابو حنیفہ کی بات سن کر سفیان ثور ی کے پاس گیا ۔اس شخص کی سفیان ثوری سے کچھ رشتہ داری بھی تھی ،اس نے ابوحنیفہ کا جواب  سفیان ثوری سے بیان کیا ،وہ جھنجھلاکر ابوحنیفہ کے پاس آئے اورانہوں نے ابوحنیفہ سے غصہ میں کہا ۔کیا تم حرام کرائو گے ۔آپ نے کہاکیا بات ہے ،اے ابوعبداللہ ۔اورپھر آپ نے سوال کرنے والے سے کہا کہ اپنا سوال ابوعبداللہ کے سامنے دہرائو ۔چنانچہ اس نے اپناسوال دہرایا اورابوحنیفہ نے اپنا فتوی دہرایا ۔سفیان نے کہا ۔تم نے یہ بات کہاں سے کہی ہے ۔آپ نے فرمایا کہ خاو  ندکے قسم کھانے کے بعد اس کی بیوی نے خاوندسے بات کی لہذاخاوند کی قسم پوری ہوگئی اب وہ جاکر بیوی سے بات کرلے تاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے اوردونوں میں سے کوئی بھی حانث نہیں ہے ۔

       یہ سن کر سفیان ثور ی نے کہا :انہ لیکشف لک من العلم عن شیٔ کلنا عنہ

غافل۔حقیقت امر یہ ہے کہ تم پر علم کے وہ دقائق واضح ہوتے ہیں کہ ہم سب اس سے غافلہیں۔

       امام لیث بن سعد کہتے تھے :کہ میں ابوحنیفہ کا ذکر سناکرتاتھا اور  میری تمنا اورخواہش تھی کہ ان کو دیکھوں ۔اتفاق سے میں مکہ میں تھا میں نے دیکھا کہ ایک شخص پرلوگ ٹوٹے پڑتے ہیں اورایک شخص ان کو یاباحنیفہ کہہ کر صداکررہا تھا ۔لہذامیں نے دیکھا کہ یہ شخص ابوحنیفہ ہیں ۔ آواز دینے والے نے ان سے کہا میں دولتمند ہوں میراایک بیٹاہے ۔میں اس کی شادی کرتاہوں ،روپیہ خرچ کرتاہوں ،وہ اس کو طلاق دے دیتا ہے ،میں اس کی شادی پرکافی روپیہ خرچ کرتاہوں اوریہ سب ضائع ہوتاہے ،کیا میرے واسطے کوئی حیلہ ہے ۔ابو حنیفہ نے کہا تم اپنے بیٹے کواس بازار لے جائو جہاں لونڈی غلام فروخت ہوتے ہیں۔ وہاں اس کی پسند کی لونڈی خریدلو ، وہ تمہاری ملکیت



Total Pages: 604

Go To