Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       فقیہ عصر شارح بخاری علیہ رحمۃ الباری تقلیل روایت کا موازنہ کرتے ہو ئے لکھتیہیں ۔

       ہمیں یہ تسلیم ہے کہ جس شان کے محدث تھے اس کے لحاظ سے روایت کم ہے ۔مگر یہ ایساالزام ہے کہ امام بخاری جیسے محدث پر بھی عائد ہے ۔انہیں چھ لاکھ احادیث یاد تھیں جن میں ایک لاکھ صحیح یاد تھیں ۔مگر بخاری میں کتنی احادیث ہیں ۔غور کیجئے ایک لاکھ صحیح احادیث میں سے

صرف ڈھائی ہزار سے کچھ زیادہ ہیں ۔کیا یہ تقلیل روایت نہیں ہے ؟ ۔

       پھر محدثین کی کوشش صرف احادیث جمع کرنا اور پھیلانا تھا ۔مگر حضرت امام اعظم کا منصب ان سب سے بہت بلند اور بہت اہم اوربہت مشکل تھا ۔وہ امت مسلمہ کی آسانی کیلئے   قرآن وحدیث واقوال صحابہ سے منقح مسائل اعتقادیہ وعملیہ کااستنباط اور انکو جمع کرنا تھا ۔مسائل کا استنباط کتنا مشکل ہے ۔اس میں مصروفیت اور پھر عوام وخواص کو ان کے حوادث پر احکام

بتانے کی مشغولیت نے اتنا موقع نہ دیا کہ وہ اپنی شان کے لائق بکثرت روایت کرتے ۔

       ایک وجہ قلت روایت کی یہ بھی ہے کہ آپ نے روایت حدیث کیلئے نہایت سخت اصول وضع کئے تھے ،اور استدلال واستنباط مسائل میں مزید احتیاط سے کام لیتے ،نتیجہ کے طور پر

روایت کم فرمائی ۔

       چند اصول یہ ہیں :۔

 ۱۔   سماعت سے لیکر روایت تک حدیث راوی کے ذہن میں محفوظ رہے ۔

۲۔     صحابہ وفقہاء تابعین کے سواکسی کی روایت بالمعنی مقبول نہیں ۔

۳۔    صحابہ سے ایک جماعت اتقیاء نے روایت کیاہو۔

۴۔    عمومی احکام میں وہ روایت چند صحابہ سے آئی ہو ۔

۵۔    اسلام کے کسی مسلم اصول کے مخالف نہ ہو ۔

۶۔    قرآن پر زیادت یاتخصیص کرنے والی خبرواحد غیر مقبول ہے ۔

 ۷۔   صراحت قرآن کے مخالف خبر واحد بھی غیر مقبول ہے ۔

۸۔    سنت مشہور ہ کے خلاف خبر واحد بھی غیر مقبول  ہے  ۔

۹۔     راوی کا عمل روایت کے خلاف ہو جب بھی غیر مقبول ۔

 



Total Pages: 604

Go To