$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

        وکان اذاحدث عن ابی حنیفۃ قال حدثنا شاہنشاہ ۔

        امام مقری جب امام ابوحنیفہ سے روایت کرتے تو کہتے کہ ہم سے شہنشاہ نے حدیث

بیان کی۔

       ان حوالوں سے ظاہر ہوگیا کہ امام اعظم اپنے معاصرین محدثین کے درمیان فن حدیث میں تمام پر فائق اور غالب تھے ۔ حضور   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ان کی نگاہ سے اوجھل نہ تھی ،یہی وجہ ہے کہ ان کے تلامذہ انہیں حدیث میں حاکم اور شہنشاہ تسلیم کرتے تھے ۔اصطلاح حدیث میں حاکم اس شخص کو کہتے ہیں جو حضور کی تمام مرویات پر متناًوسنداً دسترس رکھتاہو ،مراتب محدثین میں یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے اور امام اعظم اس منصب پر یقیناً فائز تھے۔ کیونکہ جو شخص حضور   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے بھی ناواقف ہو وہ حیات انسانی کے تمام شعبوں کے لئے رسول اللہ  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی لائی  ہوئی ہدایات کے مطابق جامع دستور نہیں بناسکتا ۔       

 امام اعظم کے محدثانہ مقام پرا یک شبہ کاازالہ: ۔ گزشتہ سطور میں ہم بیان کرچکے

ہیں کہ حضور صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم سے  بلاتکراراحادیث مرویہ کی تعداد چارہزار چار سو ہے اور امام حسن بن زیادکے بیان کے مطابق امام اعظم  نے  جو احادیث بلاتکرار بیان فرمائی ہیں انکی تعداد چار ہزار ہے۔ پس امام اعظم کے بارے میں حاکمیت اور حدیث میں ہمہ دانی کا دعوی کیسے صھیح ہوگا ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ چار ہزار احادیث کے بیان کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی چار سو حدیثوں کا امام اعظم کو علم بھی نہ ہو کیونکہ حسن بن زیاد کی حکایت میں بیان کی نفی

ہے علم کی نہیں ۔‘

       خیال رہے امام اعظم نے فقہی تصنیفات میں ان احادیث کا بیان کیا ہے جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں اور جن کے ذریعہ حضور  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے امت کیلئے عمل کا ایک راستہ متعین فرمایا ہے جنہیں عرف عام میں سنن سے تعبیر کیاجاتا ہے لیکن حدیث کا مفہوم سنت سے عام ہے کیونکہ احادیث کے مفہوم میں  وہ روایات بھی شامل ہیں جن میں حضور   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ، آپ کی قلبی واردات ،خصوصیات ، گذشتہ امتوں کے قصص اور مستقبل کی پیش گوئیاں موجود ہیں   اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی احادیث سنت کے قبیل سے نہیں

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html