Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

          المستدرک للحاکم،              مطبوعہ                       مصر

          المسند لا حمد بن  حنبل،                   مطبوعہ                       بیروت

          المسند لاحمد بن حنبل،                    مطبوعہ                       مصر

           السنن الکبری للبیہقی           مطبوعہ                       حیدرآباد دکن       

           السنن الکبری للبیہقی           مطبوعہ                       پاکستان

           السنن الکبری للبیہقی           مطبوعہ                       بیروت

          اسی طرح انکے علاوہ بھی دیگر کتب مختلف مطابع کی مطالعہ میں رہیں ،لہذا دونوںطرح کی کتابوں سے حوالے نقل کئے گئے ہیں ۔اگر کسی مقام پر حوالوں کا اختلاف ملے تو وہ مطابع کے اختلاف کی وجہ سے ہوگا۔ قارئین اس بات کو مد نظر رکھیں۔ حوالوں کے ضمن میں مطابع کی  تفصیل دینا ایک طویل عمل تھا، بار بار تفصیل آنے سے کتاب کا حجم بڑھتا اور کوئی فائدہ نہ ہوتا، لہذا تخریج کے مآخذ و مراجع میں ا ن کو بیان کر دیا گیا۔ جیسا کہ گزرا۔

۲۔        حوالوں کی کثرت سے ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ حدیث کو متعدد طرق سے تقویت   حاصل ہو تی ہے، اگر کوی صاحب کسی حدیث پر  جرح و نقد کرنے کی کوشش کریں تو پہلے وہ مذکورہ تمام کتب کی جملہ اسانید پر نظر رکھیں اور پھر فیصلہ کریں۔پھر بھی ضعیف احادیث سے کتاب خالی نہیںلیکن اکثر ان مقامات پر ہے جہاں اپنے موقف کی تائید کے لئے روایت کر تے ہیں ، نہ کہ اس سے کسی عقیدہ کا اثبات اور نہ کہ حلت و حرمت کے سلسلہ میں استدلال مقصود ہے ۔

 ۳۔      حوالوں کی کثرت اطراف حدیث کی قبیل سے ہے ،  لہذا ہر کتاب کے حوالہ میں راوی صحابی یا تابعی کا  متحدو واحد ہو نا ضروری نہیں ۔

۴۔      امام احمد رضا محدث بریلوی نے بعض مقامات پر امام ترمذی کے نہج پر کسی ایک حدیث کو متعدد راویوں سے روایت کا حوالہ دیا ہے ، البتہ ہم نے متن حدیث کسی ایک راوی سے ہی  نقل کیا ہے، اگر سب جگہ تمام راویان حدیث کی رعایت کی جاتی تو کتاب طویل سے طویل تر ہوجاتی ، بعض مقامات پر ’’ و فی الباب عن فلان و فلان الخ،  کے طرز پر یہ کام شروع کیا تھا لیکن بعد میں اسکو بھی ترک کر دیا۔

 ۵۔      حدیث موصول میں راوی صحابی، اور مرسل روایت میں راوی تابعی متعدد ہوتے ہیں، تو محدثین ان احادیث کو علیحدہ علیحدہ شمار کرتے ہیں۔  امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی اس طرف اپنی بعض عبارات میں اشارہ فرمایا  ہے، چونکہ ہم نے صرف ایک راوی سے حدیث ذکر کی ہے لہذا اختلاف متن جو تصانیف رضویہ میں ملتا ہے جسکو اس طرح بیان کر تے ہیں۔

          بخاری میں الفا ظ یہ ہیں۔

          ترمذی میں یہ  ہیں۔

          ابو داؤد  میں  یہ ہیں۔

           نسائی میں یہ ہیں۔

          اگر راوی  ایک ہیں تو ہم  نے سب کے حوالے  نیچے لکھ کر حدیث ایک ہی شمار کی ہے   اور الفاظ کسی ایک کتاب کے لئے ہیں۔

           اول تو حدیث متعدد حوالوں سے متعدد نہیں ہوتی جبکہ راوی صحابی ایک ہو۔ دوسرے یہ کہ اس سے کتاب کا حجم بڑھتا جو خلاف اصول ہونے کے ساتھ طوالت کاسبب بنتا۔

۶۔      امام احمد رضا محدث بریلوی بعض مقامات پر چند کتب حدیث سے الفاظ التفاط کرکے ایک حدیث بنا ددیتے ہیں، لہذا کسی  ایک کتاب میں



Total Pages: 604

Go To