$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

فرمائی ۔

       احوال المصنفین میں ہے:۔

        امام اعظم ابوحنیفہ سے پہلے حدیث نبوی کے جتنے صحیفے اور مجموعے لکھے گئے ان کی ترتیب فنی نہ تھی، بلکہ انکے جامعین نے کیف مااتفق جو حدیثیں انکو یاد تھیں انہیں قلم بند کردیا

تھا ۔امام شعبی نے بیشک بعض مضامین کی حدیثیں ایک ہی باب کے تحت لکھی تھیں لیکن وہ پہلی کوشش تھی جو غالبا چند ابواب سے آگے نہ بڑھ سکی ، احادیث کو کتب وابواب پر پوری طرح مرتب کرنے کا کام ابھی باقی تھا جسکو امام اعظم ابوحنیفہ نے کتاب الآثار تصنیف کرکے نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل فرمادیا اور بعد  کے ائمہ کیلئے ترتیب ومقبولیت کا ایک عمدہ نمونہ قائم

کیا ۔

       ممکن ہے کہ کچھ لوگ کتاب الآثار کو احادیث صحیحہ کا اولین مجموعہ بتانے پر چونکیں ، کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ صحیح بخاری سے پہلے احادیث صحیحہ کی کوئی  کتاب مدون نہیں تھی ،مگر یہ بڑی غلط فہمی ہے ،اس واسطے کہ علامہ مغلطائی کے نزدیک اس بارے میں اولیت کا شرف امام

مالک کو حاصل ہے ۔ حافظ سیوطی تنویرالحوالک میں لکھتے ہیں کہ :۔

        حافظ مغلطائی نے کہاہے کہ سب سے پہلے جس نے صحیح تصنیف کی وہ امام مالک ہیں ۔ اور کتاب الآثار موطا سے بھی پہلے کی ہے جس سے  خودموطاکی تالیف میں استفادہ کیا گیاہے ۔

چنانچہ حافظ سیوطی تبیض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔

        امام ابوحنیفہ کے ان خصوصی مناقب میں سے کہ جن میں وہ متفرق ہیں ایک یہ بھی ہے کہ وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے علم شریعت کو مدون کیا اور اسکی ابواب پر ترتیب کی ،پھر امام مالک بن انس نے موطاکی ترتیب میں انہیں کی پیر وی کی ، اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ پر کسی

کو سبقت حاصل نہیں ۔( ۱۱۸)

قرن ثانی ۔ مولفات تبع تابعین

 ۱۔   کتب عبدالمالک بن عبدالعزیزبن جریج مکی              متوفی  ۱۵۰ھ

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html