$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

کہ ایک اندھیری کوٹھری میں پڑے ہیں اورایسا لباس جسم پر نہیں کہ جسکو پہن کر باہر نکلیں ۔دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ جو کچھ اثاثہ تھا ختم ہوگیا اب لباس تیار کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں ۔آخر ہم لوگوں نے مل کر رقم جمع کی اور خرید کر کپڑا لائے تب کہیں جاکر امام بخاری

پڑھنے کیلئے نکلے ۔

امام احمد بن حنبل

        ایساہی واقعہ امام احمد بن حنبل کے تعلق سے مشہور ہے ،مکہ معظمہ میں سفیان بن عیینہ کے پاس تعلیم حاصل کررہے تھے ،ایک دن خلاف معمول درس سے غائب رہے ،حال دریافت کرنے انکی فرودگاہ پر پہونچے ،دیکھا کہ اندر چھپے بیٹھے ہیں ۔معلوم ہواکہ سارا کپڑا چوری ہوگیا اوررقم بھی پاس نہیں ۔ واقعہ کے راوی علی بن الجہم کہتے تھے ،میں نے امام کی خدمت میں اشرفی پیش کی اورعرض کی ،چاہے بطورھدیہ قبول فرمائیں یابطور قرض ،آپ نے انکار کردیا ،تب میں

نے کہا: معاوضہ لیکر میرے  لئے کچھ کتابت ہی کردیجئے ،اس پرراضی ہوگئے ۔

        علی بن جہم نے بطور تبرک امام کے اس مخطو طہ کو رکھ چھوڑا تھا اورلوگوں کو دکھا کر واقعہ

بیان کرتے تھے ۔

        ایک مرتبہ طلب حدیث میں یمن پہونچے ،آپکے استاذ عبدالرزاق یمنی بیان کرتے تھے ،جب میرے پاس درس میں آئے تو میں نے ان سے کہا: یمن کوئی کاروباری ملک نہیں ،پھر

میں نے چند اشرفیاں پیش کیں  لیکن لینے پر کسی طرح راضی نہ ہوئے ۔

       اسحاق بن راہویہ بھی آپکے شریک درس تھے ،وہ بیان کرتے ہیں ۔ ازاربندبن بن کر آپ اپنی ضرورت پوری کیاکرتے تھے ،لوگوں نے پیش کش کی ،اصرار کیا لیکن ہمیشہ انکار

کردیا ۔  کہتے ہیں : جب کام سے فارغ ہوکر یمن سے چلنے لگے تونانبائی کے کچھ روپے حضرت پررہ گئے ۔جوتاپائوں میں تھا اسی کو نانبائی کے حوالہ کردیا اور خود پیدل روانہ ہوگئے ،اونٹوں پربار لادنے اوراتارنے والے مزدوروں میں قافلہ کے ساتھ شامل ہوگئے ،جو مزدوری ملتی وہی

زادراہ کاکام دیتی تھی۔(۱۰۶)



Total Pages: 604

Go To
$footer_html