Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ احادیث ہردور میں کتابت شدہ شکل میں موجود تھیں ، تواس سے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کہ ہرزمانے میں روایت حدیث میں کتابت کا دخل  رہاہے اور یہ تصور کلیۃً غلط ہے کہ احادیث کی باقاعدہ تدوین سے پہلے وہ صرف زبانی طور پر ہی ایک راوی سے دوسرے راوی کی طرف منتقل ہوتی رہیں ۔( ۸۶)

       مزیدلکھتے ہیں :۔

        مسلمانوں نے اپنے دینی مصادر کی حفاظت کے معاملہ میں کبھی کوتاہی نہیں کی البتہ انہوں نے ہرزمانے میں دینی مصادر کی حفاظت کا وہی طریقہ استعمال کیا ، جو اس زمانے کے تقاضوں پر پورا اترتاتھا ۔جب حالات بدلتے اور دین کی حفاظت کیلئے نئے ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی تو مسلمان وقت کے تقاضوں کی پکار پر فوراً لبیک کہتے ۔

       قرآن  اورحدیث کی حفاظت کی کوششیں کئی جہتوں سے ایک دوسرے کے مماثل ہیں  حضو  ر   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کازمانہ ہی اسلام کا دور عروج ہے ۔مستشرقین سب سے بڑا مغالطہ اسی مقام پر پیداکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ حضور  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے دور ہمایوں کو اسلام کا دور طفولیت قرار دیتے ہیں حالانکہ یہی دور اسلام کا دور عروج ہے ۔قرآن و حدیث کی حفاظت کا بھی یہی دورعرج ہے ،جس کی مستشرقین کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں۔ عہد نبوی میں قرآن و حدیث کی حفاظت کی کوششوں کے متعلق مولانا محمد بدرعالم صاحب نے خوب لکھا ہے ،ان کے الفاظ نذر قارئین ہیں ۔

       قرآن وحدیث کی حفاظت کا یہ دور دور شباب تھا ۔اس لئے  حفاظ کی کثرت ،صحابہ کی  یک جہتی اور آ نحضرت   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے فیض صحبت کے عمیق اثرات نے اس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۸۶۔    ضیاء النبی،                   ۷/۱۳۲  تا          ۱۴۳

 ضرورت کا احساس ہی نہ ہونے دیا کہ وہ قرآن کیلئے کسی جدید نظم و نسق کا تخیل اپنے دماغوں میں لاتے ۔اسی طرح حدیث کا معاملہ بھی لوگوں کے اپنے اپنے انفرادی جذبہ تحفظ کی وجہ سے کسی مزید اہتمام کے قابل نہ سمجھاگیا ۔ حتی کہ جب جنگ یمامہ میں دفعۃً صحابہ کی ایک بڑی تعداد شہید ہوگئی تواب حاملین قرآن کو ان اچانک اور غیر معمولی نقصانات سے قرآن کی حفاظت میں خلل پڑجانے کا خطرہ بھی محسوس ہونے لگا ۔ چنانچہ یہاں حضرت عمر رضی اللہ



Total Pages: 604

Go To