Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

پہلے اس اسلوب کو اپنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی ۔ اس بات کی ایک بہت بڑی  دلیل یہ ہے کہ  جس طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مختلف علماء کو احادیث کی تدوین کے متعلق لکھا تھا ، اسی طرح انکے والد عبدالعزیز بن مروان نے بھی اپنی مصر کی گورنری کے زمانے میں حضرت کثیر بن مرہ کو احادیث لکھنے  کے متعلق لکھاتھا :۔

        حضرت لیث بن سعد کہتے ہیں :۔

        حدثنی یزید بن ابی حبیب ان عبدالعزیز بن مروان کتب الی کثیر بن مرۃ الحضرمی وکان قدادرک بحمص سبعین بدریا من اصحاب رسول اللہ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال لیث : وکان یسمی الجندالمقدم قال : فکتب الیہ ان یکتب الیہ بما سمع من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من احادیثھم الا حدیث ابی ہریرۃ فانہ عندنا۔

       ’’ یزید بن ابی حبیب نے مجھے بتایا کہ عبدالعزیز بن مروان نے کثیر بن مرہ حضرمی کو ،جن  کی ملاقات حمص میں ستربدری صحابہ کرام سے ہوئی تھی اور جن کو ’’الجندالمقدم ‘‘  کہاجاتاتھا ،لکھا کہ انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علہم اجمعین سے جو احادیث سن رکھی ہیں وہ ان کیلئے تحریر کردیں سوائے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث کے کیونکہ وہ پہلے ہی انکے پاس موجود ہیں ۔‘‘

       اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ آیا حضرت کثیر بن مرہ نے گورنر مصر کے حکم کی تعمیل کی تھی یانہیں لیکن گورنر مصر کی خواہش کے باوجود علماء کرام تدوین حدیث کی طرف اس رفتار سے مائل نہیں ہوئے ،جس رفتار سے ان کے صاحبزادے کے دور میں انکی دعوت پر ہوئے تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ عبدالعزیز بن مروان کے زمانے میں علماء نے اس کام کی ضرورت کو شدت سے محسوس نہ  کیا تھا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں علماء کرام نے اسی بات کو شدت سے خود بھی محسوس کیاجو خلیفۂ وقت نے محسوس کی تھی ۔یہی وجہ تھی کہ خلیفۂ وقت کی دعوت پر علماء کرام کی تدوین حدیث کی انتھک کوششوں میں مصروف ہوگئے ۔اس بات سے اس حقیقت کا بھی پتہ چلتاہے کہ علماء اسلام وقت کے حکمرانوں کے دبائومیں آکر کوئی ایسا کام نہ کرتے تھے جسے وہ خود غیر ضروری یا نا مناسب سمجھتے تھے ۔گورنر مصر کا حکم اس لئے نہ چل سکا کہ اس وقت کے علماء نے خود اس وقت اس کام کی ضرورت محسوس نہ کی اور اسی گورنر کے بیٹے کا اسی نوعیت کا حکم پوری آب  وتاب سے اس لئے نافذ ہوگیا کہ انکے دور کے علماء نے خود بھی اس کام کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیاتھا ۔

 



Total Pages: 604

Go To