Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

خود پہلے ایڈیشن میں  مشاہدہ فرمایا ۔ بلاشبہ یہ مولانا موصوف کا میرے اوپر عظیم احسان ہے جس کا میں نہایت ممنون و مشکور ہوں ۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء فی الدار الدنیا والآخرۃ ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم ۔

 میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر  X  لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

        اس کتاب کااول وآخر پورے طور پر اس شعر کا مصداق ہے ۔جب آغاز ہوا تھا تو میں اکیلا ہی تھا لیکن منزل مقصود تک پہونچنے کے لئے میرا کتنے لوگوں نے ساتھ دیا اور کس کی کیا خدمات ہیں اس کی ایک جھلک ملاحظہ کریں ۔

        سب سے پہلے شریک سفر عزیز مکرم مولانا محمد مشتاق صاحب رضوی پورنوی ہیں جو کتاب کے آغاز کے ایک سال بعد جامعہ نوریہ میں بحیثیت استاذ مقرر ہوئے ،کام کی نوعیت واہمیت سے متاثر ہو کر میرے ساتھ حوالوں کی تخریج میں لگ گئے ، راتوں کو میرے ساتھ جاگتے اور صحاح ستہ سے حوالے نقل کراتے ۔فتاوی سے نقل احادیث میں بھی ایک رجسٹر ان ہی نے نقل کیا ، پٹنہ کے سفرمیں بھی میرے ساتھ رہے ، وہاں بھی تن دہی سے کام کرایا ، دو سال تک جامعہ میں رہے لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری ، آج کل دارالعلوم گلشن بغداد رامپور میں مدرس ہیں اور نہایت کامیاب ،  کہنہ مشق اور لکھے پڑھے کاتب وخوش نویس ہونے کی حیثیت سے بھی ممتاز ہیں ، کتابوں کے عنوان ان ہی کی خوش خطی کا مظہر ہیں ۔ان کے جانے سے میں نے اس کام میں تنہائی محسوس کی ، میں ان کا نہایت ممنون ہوں ، مولی تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے اور دارین کی سعادتوں سے نوازے ۔ آمین ۔

        دوسرے عظیم رفیق مخلص مکرم حضرت مولانا عبدالسلام صاحب رضوی نینی تالی استاذ جامعہ نوریہ رضویہ کی ذات گرامی ہے ، ایک سال کے وقفہ کے بعد آپ جامعہ میں تشریف لائے اور دوسرے ابتدائی و ضروری کاموں سے فارغ ہوکر میرے شریک سفر ہوگئے ۔ ابواب وفصول کے جو عنوان قائم کئے گئے تھے ان سب کو آپ ہی نے نقل کیا ، پھر ترتیب قائم کردی گئی تو اس کی نقل بھی آپ کے ہی ذمہ آئی ، ایک ضخیم رجسٹر میں آپ نے ان سب کو نقل فرمایا اور مبیضہ کے لئے راہ ہموار فرمادی ۔

        اب کتاب کا مبیضہ شروع ہوا تو مبیضہ کے بعد ہر رجسٹر کو آپ نے بغور پڑھا اور بالاستیعاب اس کو دیکھا اور مفید مشوروں سے نوازا ۔ نتیجہ کے طور پر حذف واضافہ کیا گیا جو ضروری تھا ،اٹھارہ رجسٹر مکمل آپ نے دیکھے اور میری خاطر اس طویل عمل کو برداشت کیا ، پھر فہرست مسائل ضمنیہ آپ ہی نے مرتب فرمائی، کتابت کے بعد مکمل کتابت کی تصحیح آپ ہی نے کی ، یہ اتنا لمبا کام تھا کہ وہ خود چاہتے تو اس وقت میں ایک ضخیم کتاب لکھ دیتے ، آخر تک نہایت   خندہ پیشانی سے یہ کام انجام دیتے رہے ، ساتھ ہی طلبہ کو تعلیم دینا اورنہایت ذمہ داری کے ساتھ  پڑھانا، ان کا یہ عمل اوقات مدرسہ کے ساتھ دوسرے اوقا ت میں بھی جاری رہا ، نہایت کامیاب اور ہر دل عزیز مدرس ہیں ، میں ان کا بھی نہایت ممنون کرم ہوں ، مولیٰ تعالیٰ انکے فیوض عام فرمائے اور جزائے خیر عطا فرمائے ۔آمین

        عزیز مکرم مولانا صغیر اختر صاحب مصباحی رامپوری استاذ جامعہ نوریہ نے مجھ ہیچمداں کے سوانحی حالات قلم بند کرکے مجھے میری حیثیت سے بہت اونچا دکھانے کی مساعی کی ہیں ورنہ ’’ من آنم کہ من دانم ‘‘  آپ نے جزوی طور پر وف ریڈنگ کا کام



Total Pages: 604

Go To