$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

اورعطا بن ابی رباح خاص طور پر مشہور ہیں ۔ ان دونوں حضرات کی احادیث خود انکی موجود گی میں لوگ لکھتے تھے ۔(۶۲)

 پھر یہ کہ حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت مجاہد خود بھی آپ سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۶۱۔     تہذیب التہذیب لا بن حجر،            ۷/۱۸۳

 ۶۲۔    تہذیب التہذیب                       ۳ /۴۸

 روایت کرتے ہیں اور ان سب حضرات نے احادیث کی جمع وتدوین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ، لہذا آپکی مرویات تقریباً سب ہی جمع ہوگئی تھیں ۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

        آپکی عظمت شان اس سے ظاہروباہر ہے کہ آپ کو  بارگاہ رسالت میں خاص قرب حاصل تھا ،صاحب النعل والوسادۃ آپ کا لقب مشہور تھا کہ آپ کو  سفر وحضر میں حضور کی کفش برداری کا اعزاز خاص طور پر نصیب ہوا۔

        آپکی روایتیں آپکے مشہو رشاگرد حضرت علقمہ کے ذریعہ محفوظ ہوئیں اور ان سب کولکھا گیا ، بعض لوگوں نے یہ طریقہ بھی اپنایا کہ آپ سے حدیثیں سنکرجاتے اورگھر جاکر وہ احادیث قلمبند کرلیتے تھے ۔وجہ اسکی یہ تھی کہ آپ ابتدائً کتابت کے مخالف تھے ۔(۶۳)

 انس بن مالک کی مرویات کے مجموعے

       آپ حضور سید عالم  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے خادم خاص ہونے کی وجہ سے کثیر الروایت ہیں ، اپنے بیٹوں اورتلامذہ کو احادیث لکھواتے تھے ،جب کثرت سے لوگ آنے لگے تو آپ وہ صحیفے ہی اٹھا لائے جن میں احادیث تھیں اور فرمایا : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے خود حضور سے سنیں اور پھر لکھ کر دوبارہ سنائیں ۔(۶۴)

 حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص کی   روایتوں کے مجموعے

       آپ پڑھ چکے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو حضور اقدس صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ سے کتابت حدیث کی کامل طور پر اجازت بلکہ حکم مل چکا تھا ۔لہذا آپ نے جو بھی سنا اسکو لکھا ۔ آپ نے اپنے صحیفہ کانام  ’’الصادقہ ‘‘ رکھاتھا ،آپ نے بلا واسطہ روایات کو اس میں جمع کیاتھا۔

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html