$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       حضور اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے ہرقل کو جو خط لکھا تھا اس  کا ذکر کتب صحاح میں ملتا ہے ،اب اس خط کی فوٹوبھی شائع بھی ہوچکی ہے ،صحاح کے بیان اور فوٹو کی تحریر میں ذرہ برابر فرق نہیں (۴۵)

        اسکے علاوہ سلاطین  کو دعوت اسلام ،صلح نامے ، معاہدے ، اور امان نامے وغیرہ سیکڑوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۴۴۔     السنن لابی داؤد۔

۴۵۔     فیوض الباری شرح  بخاری،             ۱/۲۳

چیزیں تھیں جو آپ کے زمانہ اقدس میں تحریری شکل میں موجود تھیں ۔

 صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

        اولاً بعض صحابہ کرام کو کتابت حدیث میں تامل رہا ،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کتابت کی وجہ سے حفظ وضبط کا وہ اہتمام نہیں رہ سکے گا اور اسکی جانب وہ توجہ باقی نہ رہے گی ، اس طرح سفینوں کا علم سینوں کو خالی کردیگا ،آئندہ صرف تحریریں ہونگی جن پر اعتماد ہوگا اور انکے پیچھے حافظہ کی قوت نہ ہوگی کہ غلطیوں کی تصحیح ہوسکے ،لہذا حذف واضافہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور تحریف کے دروازے کھل جائیں گے ، منافقین  اور یہودونصاری کو روایات میں تغیروتبدل کا موقع مل جائے گا، اس طرح دین کی  بنیادوں میں رخنہ اندازی شروع ہوسکتی ہے ،ان وجوہ کی بنا پر کچھ ایام بعض صحابہ کرام کو تذبذب  رہا ،لیکن اسلام جب دور دور تک پھیل گیا ، اور خوب قوت حاصل ہوگئی تو مندرجہ بالا خدشات کی جانب سے اطمینان  ہوگیا اورقرآن مجید کی طرح رفتہ رفتہ   حدیث کی کتابت پر بھی سب متفق ہوگئے ۔ ہاں مگر ان حضرات صحابہ کے درمیان یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ کتابیں دیکھ دیکھ کر احادیث بیان نہیں کی جاتی تھیں ، اسی وجہ سے ان تحریری مجموعوں کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی  پھر کافی تعداد میں صحابہ کرام نے اس فریضہ کو انجام دیا جس

کی قدرے  تفصیل اس طرح  ہے۔

        حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو پہلے کتابت حدیث کے سخت مخالف تھے لیکن بعد میں وہ عملی طور پر اس میدان میں اتر آئے اور آخر میں ان کی مجالس کا یہ طریقہ تھا ۔

        حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

        کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ (۴۶)

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html