Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

،غوروفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ وجہ تنویع ہے ۔یعنی دونوں میں

حکم عام ہے اور یہ الگ الگ انواع سے متعلق ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۳۴۔    ضیاء النبی،   ۷/۱۱۷

       علامہ پیرکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں :۔

        لیکن علمائے ملت اسلامیہ نے کتابت حدیث کی ممانعت اور جواز کے متعلق مرویہ احادیث میں تطبیق  کی اور بھی کئی صورتیں بیان کی ہیں ، ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ

ممانعت ان لوگوں کیلئے ہے جن کا حافظہ اچھا ہے ، ان کو کتابت سے اس لئے منع کیاگیا ہے تاکہ وہ کتابت پر بھروسہ کرکے احادیث کو حفظ کرنے کے معاملہ میں سستی کا مظاہرہ نہ کریں ۔ اور اجازت ان لوگوں کیلئے ہے جن کو اپنے حافظوں پر اعتبار نہ تھا ۔جیسے ابو شاہ ،کہ اس کیلئے حضور

اقدس   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث کولکھنے کا خود حکم فرمایا ۔

        تطبیق کی ایک اور صورت علمائے کرام نے یہ بیان کی ہے کہ عام لوگوں کیلئے تو کتابت کی ممانعت تھی ، کیونکہ کتابت میں ماہر نہ ہونے کی وجہ سے التباس اور غلطی کا امکان موجود تھا ، لیکن جو لوگ فن کتابت کے ماہر تھے اور اس مہارت کی وجہ سے جن سے غلطی اور التباس کا امکان نہ تھا ان کو احادیث لکھنے کی  اجازت دیدی گئی ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضور اقدس صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے کی اجازت فرمائی ،

کیونکہ وہ کتابت کے فن میں ماہر تھے اور ان سے غلطی کا اندیشہ نہ تھا۔( ۳۵)

       ان وجوہ تطبیق اور روایات کی تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حضور نبی کریم  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم خود نہیں چاہتے تھے کہ میرے صحابہ احادیث  میںاس طرح مشغول ہوں جیسے کہ قرآن کریم میں منہمک رہتے ہیں ۔لیکن آپ کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ میرے طریقوں کا اتباع نہ کریں کہ اس کے بغیر تو پھر قرآن کریم کا  اتباع اور اس کی تعلیما ت پر کامل طور  سے عمل ہوہی نہیں سکتاتھا ،جیساکہ ہم اول مضمون   میںبیان کر آ ئے ہیں کہ قرآنی تعلیمات کو بغیر اسوئہ رسول   کے سمجھا ہی نہیں جاسکتا تھا لیکن اسکی دونو عیتیں تھیں ، بعض صورتوں میں عمل ہی ممکن نہیں تھا

 



Total Pages: 604

Go To