Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

۳۱۔    ضیاء النبی،                                       ۷/۱۱۳

 ۳۲۔      جامع بیان العلم لا بن  عبد البر،                              ۲۶

ہوتا تھا کہ اسے حفظ کرلونگا ،قریش نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا : تم جوکچھ حضور سے سنتے ہو اسے لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم بشر ہیں ، آپ غصے اور رضا ہرحال میں کلام فرماتے ہیں ،میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور اس بات کا ذکر حضور اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں کیا ،حضور نبی کریم  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگشت پاک سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : لکھا کرو ،اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری

جان ہے اس زبان سے ہمیشہ حق بات ہی نکلتی ہے ۔

       ہماری نقل کردہ ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نصوص قرآن وحدیث میں کبھی حقیقی تعارض ہوہی نہیں سکتا ہے ،جہاں تعارض نظر آتا ہے وہ فقط ظاہری ہوتاہے ،جن لوگوں نے ایسے مقامات پر تعارض سمجھا وہ قلت فہم کی پیداوارہے ۔ اگر حقیقی تعارض قرآن وحدیث میں پایا جاتا تو وہ تمام نصوص رد ہوجاتیں جہاں تعارض نظرآتا ہے اور یہ

دونوں علی الاطلاق دین اسلام کے مصدرقرار نہ پاتے ۔

       ایسے مقامات پر علمائے کرام دفع تعارض کیلئے مختلف صورتیں اپناتے ہیں تاکہ خداوند قدوس کا کلام بلاغت نظام اوراسکے رسول معظم صاحب جوامع الکلم کے فرامین اپنے حقیقی محامل پر محمول ہوسکیں ۔دفع تعارض کی وجوہ کو ہم نے ابتدائے مضمون میں شرح وبسط کے ساتھ بیان

کردیا ہے ،لہذا انکی طرف رجوع کریں ۔

       یہاں ان میں سے بعض کے ذریعہ تعارض کودور کیاجا  سکتاہے ،پہلی وجہ دفع تعارض

کیلئے نسخ ہے اوروہ یہاں منصور بلکہ واقع ۔

        والحق انہ لاتعارض ،وقداجتھد کثیرمن اہل العلم فی الجمع بینھما ،

واحسن مأ اراہ فی ذلک ھوالقول بنسخ احادیث النھی عن الکتابۃ۔( ۳۳)

        حق یہ ہے کہ یہاں کسی قسم کا تعارض نہیں ،علما ء نے ان احادیث میں تطبیق کی کئی صورتیں بیان کی ہیں ، جورائے میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ اچھی ہے وہ یہ ہے کہ

 



Total Pages: 604

Go To