$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

کتابت،ضبط صدر،  یا عمل کسی ذریعہ  سے علم کی  حفا ظت ہو سکتی ہے

       یہ بات مسلمات سے ہے کہ رب کریم جل وعلانے انسانی فطرت میں اس چیز کو ودیعت فرمادیا ہے کہ کسی واقعی چیز کی حفاظت انسان کبھی  حفظ و ضبط اور اپنی قوت یادداشت کے ذریعہ کرتاہے  اور کبھی تحریر وکتابت سے اور کبھی عمل و کردار سے ،تینوں صورتوں کے مراتب حالات کے اختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں ،محض کسی ایک کو حفاظت کاذریعہ سمجھ لینا ہرگز دانشمندی نہیں ۔

       اب اگر کوئی حفاظت وصیانت کی بنا لکھنے ہی کو قرار دینے لگے  تواس میں جیسی کچھ لغزشیں پیش آتی ہیں انکے چند نمونے ملاحظہ کرتے چلئے ۔

       علماء ومحدثین نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے اور ان لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ہے جو علوم وفنون کے سرمایہ کوکتابت ہی کی صورت میں دیکھنے کے روادار ہیں ۔

  کتابت پر بھروسہ کر کے پڑھنے کی چند مثالیں

       امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے ایک حدیث الادب المفرد میں نقل فرمائی جسکی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک صغیر سن بھائی تھے ۔ ایک چڑیاہاتھ میں لئے کھیلتے پھرتے تھے ،کسی دن وہ چڑیا مرگئی۔  حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ہمارے یہاں تشریف فرماہوئے تودیکھا کہ میرے بھائی رنجیدہ ہیں، وجہ دریافت کی، ہم نے قصہ بیان کیا ،چونکہ بچوں پر حضور اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کاپیار اورشفقت عام تھی ،مزاح اور جوش طبعی کیلئے کبھی نادرالمثال جملوں سے نواز تے ،اسی انداز میں حضور نے پہلے انکی کنیت ابوعمیر قراردی اورفرمایا ۔

 

 

 

       یااباعمیر مافعل النغیر۔(۱)

         ابوعمیر نغیر نے کیاکیا ۔

       امام حاکم اسی ارشاد رسول کے متعلق فرمارتے ہیں ،کہ ایک صاحب جنہوں نے احادیث کی سماعت مشائخ سے نہ کی تھی یونہی کتابت پر بھروسہ کرکے کتاب کھو ل کر حدیث پڑھنا  شروع  کردی ،جب یہ حدیث آئی چونکہ علم



Total Pages: 604

Go To
$footer_html