Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ٔ خلافت میں مسجد نبوی کو وسیع کرنے کی ضرورت پیش آئی ،مسجد کے قبلہ کی طرف حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا مکان تھا ،حضرت عمر نے ان سے مسجد کیلئے مکان فروخت کرنے کی درخواست کی ،حضرت عباس نے انکارکردیا،دونوں حضرات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے ،انہوں نے جب صورت حال کے متعلق سنا تو فرمایا : اگر چاہوتو میں تمہیں ایک حدیث پاک سنا سکتاہوں جواس مسئلہ میں آپکی رہنمائی کریگی ۔ آپ نے فرمایا : سنائو۔

        حضرت ابی کعب نے فرمایا : میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف وحی کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کریں جس میں اسکو یاد کیا جائے ۔اللہ  تعالیٰ نے اس گھر کیلئے جگہ کا تعین بھی فرمادیا ،حضرت دائود علیہ السلام کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس شخص سے وہ جگہ زبردستی حاصل کرلیں تواللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ،اے دائود ! میں نے تمہیں اپنا گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا جس میں میرا ذکر کیا جائے اور تم میرے گھر میں غصب کو داخل کرنا چاہتے ہو ، غصب کرنا میری شان کے شایاں نہیں ہے ، اب تمہاری اس لغزش کی سزا یہ ہے کہ تم میرے گھر کو تعمیر کرنے کے شرف سے محروم رہوگے ۔

        حضرت دائود نے عرض کی ! پروردگار ! کیامیری اولاد اس گھر کو تعمیر کرسکے گی ؟ فرمایا : ہاں تمہاری اولاد کو یہ شرف حاصل ہوگا ۔

       حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سے یہ حدیث سنی تو  فرمایا : میں تمہارے پاس ایک مسئلہ لیکر آیاتھا اور تم نے ایک ایسا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۵۹۔     ضیاء النبی         ۷/۹۹

کھڑاکردیا جو اس پہلے مسئلہ سے بھی شدید تر ہے ،تمہیں اپنے قول کے گواہ پیش کرنا ہوں گے ۔

 وہ انہیں لے کر مسجد نبوی میں آئے اور انہیں صحابہ کرام کے ایک حلقہ کے پاس لاکھڑاکیا ،ان صحابہ کرام میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔

       حضرت عمر نے اس مجمع صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا : میں تمہیں خداکی قسم دے کر کہہ رہا  ہوں کہ جس شخص نے حضور اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہو جس میں حضرت دائود علیہ السلام کو بیت



Total Pages: 604

Go To