Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

کرنے کی ترغیب ملی تھی وہیں آپ کی جانب بے بنیاد اور غلط بات منسوب کرنے پر وعید شدید کا سزاوار بھی قرار دیا گیا تھا ،لہذا وہ حضرات نہایت احتیاط کے ساتھ روایتیں بیان کرتے اور جب کسی چیز کا فیصلہ سنت سے کرنا مقصود ہوتا تو

اس کی تائید وتوثیق میں چند صحابہ کی شہادت کو سامنے رکھا جاتا تھا ۔

       امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک عورت آئی اور اس نے اپنے پوتے کی وراثت میں سے حصہ مانگا ، وراثت میں دادی کے حصہ کے متعلق نہ قرآن حکیم میں ذکر تھا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی حدیث پاک حضرت صدیق اکبر نے سنی تھی، آپ نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ اٹھے اور عرض کیا : مجھے معلوم ہے کہ حضور نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا ، انہوں جب حدیث پیش کی تو آپ نے  ان سے

گواہ پیش کرنے کو کہا ،حضرت محمد بن مسلمہ نے گواہی دی تو آپ نے فیصلہ فرمایا۔

        ایک دفعہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی  اللہ تعالیٰ عنہ کو باہر سے تین دفعہ سلام کیا لیکن جواب نہ ملا ،آپ واپس لوٹ آئے ، حضرت عمر نے ان کو بلوایا اور واپس جانے کی  وجہ پوچھی ،آپ نے کہا : حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا

ارشاد ہے ۔

       جو شخص تین دفعہ سلام کہے اور اسے صاحب خانہ اندر جانے کی اجازت نہ دے تووہ خواہ مخواہ اندر جانے پر مصر نہ ہو بلکہ واپس لوٹ جائے ۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس حدیث کی صحت پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہاری خبر لوں گا ۔وہ صحابہ کے  پاس گئے تو پریشان تھے ،وجہ پوچھی تو آپ نے سارا ماجراکہہ سنایا، صحابہ کرام میں سے چند نے گواہی دی کہ ہم نے بھی یہ حدیث سنی ہے ، چنانچہ ایک صاحب نے حضرت عمر کے پاس آکر شہادت دی اس پر حضرت فاروق اعظم نے فرمایا: ۔

       انی لم اتہمک ولکنی خشیت ان یتقول الناس علی رسول اللہ صلی اللہ

تعالیٰ علیہ وسلم ۔(۵۹)

       اے ابوموسی ! میرا ارادہ تمہیں متہم کرنے کا نہیں تھا ، لیکن  میں نے اس خوف سے اتنی سختی

کی کہ کہیں لوگ بے سروپا باتیں حضور کی طرف منسوب نہ کرنے لگیں ۔

 



Total Pages: 604

Go To