$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       آپ نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے تمہاری طرف جو حکام بھیجے ہیں وہ اس لئے نہیں  بھیجے تاکہ وہ تمہیں زدوکوب کریں اور تمہارے اموال تم سے چھینیں ، میں ے انہیں صرف اس لئے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہارے نبی کی سنت سکھائیں ،حکام میں سے اگر تمہارے ساتھ کسی نے زیادتی کی ہو تو پیش کرو۔ اس ذات پاک کی قسم جس کے دست

قدرت میں عمر کی جان ہے میں اس حاکم سے قصاص لئے بغیر نہیں رہوں گا ۔

       حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے محبوب وکریم رسول  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم  کی سنت کی نشرواشاعت اورتمام قلمرو اسلامی میں اس پر سختی سے عمل کرانے کی جو مساعی کیں یہ اس کا نہایت ہی مختصر خاکہ ہے لیکن اس سے کم ازکم یہ حقیقت تو ہویداہوجاتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت امت پر قیامت تک فرض ہے اور اسی میں ان کی ترقی عزت اور ہیبت کا راز پنہا ںہے ، اسی لئے تو آپ نے ملک کے گوشے گوشے میں جلیل القدر صحابہ کرام کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو ان کے رسول کی سنت کی تعلیم دیں

اور حکام کو بار بار اتباع سنت کیلئے مکتوب روانہ فرمائے۔ (۴۹)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۴۹۔    سنت خیر الانام ، مصنفہ پیر کرم شاہ ازہری،      ۱۱۳

 

 

صحابہ کرام نے اپنے عمل وکردار سے سنت رسول کی حفاطت فرمائی

       حفاظت حدیث کی ذمہ داری سے صحابہ کرام اس منزل پر آکر خاموش نہیں ہوگئے کے انکو محفو ظ کرکے آرام کی نیند سوجاتے ، ان کیلئے حدیث کے  جملوں کی حفاظت محض تبرک کیلئے نہیں تھی جن کو یاد کرکے بطور تبر ک قلوب واذہان میں محفوظ کرلیا جاتا ، بلکہ قرآنی تعلیمات کی

طرح ان کو بھی وہ وحی الہی سمجھتے تھے جن پر عمل ان کا شعار دائم تھا ۔

        ہر شخص ان  فرامین کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ،ان کے لطیف احساسات سے لیکر طبعی خواہشات تک  سب کے سب سنت مصطفوی کے پابند تھے ، ان کی خلوتوں کا سوزوگداز ،انکی جلوتوں کا خروش عمل ،انکے شب وروزکے مشاغل اور انکے

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html