Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

سے ہرگز تجاوز نہ کیا جائے ۔

       حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل کوفہ کوبھی ایک خط لکھاتھا جس میں

تحریر فرمایا ۔

       انی بعثت الیکم عماربن یاسر امیرا ،وعبداللہ بن مسعود معلما ووزیرا ، وھما من النجباء من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ومن اہل بدر

فاقتدوا بھما واسمعوا،وقداثرتکم بعبد اللہ بن مسعود علی نفسی ۔

        میں تمہاری طرف عمار بن یاسر کوامیر اور عبداللہ بن مسعود کو معلم بناکر بھج رہاہوں ،اور یہ دونوں حضور   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے بزرگ ترین صحابہ میں سے ہیں اوربدری ہیں ، انکی پیروی کرو اور انکا حکم مانو ، خاص طور پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوتمہاری طرف بھیج کر

میں نے تمہیں  خود پر ترجیح دی ہے ۔

       علامہ خضری نے تاریخ التشریع الاسلامی میں مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد

لکھاہے ۔

       وقدقام فی الکوفۃ یأخذ منہ اہلھا حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ

وسلم وہو معلمہم وقاضیہم ۔

        یعنی اسکے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدت تک کوفہ میں قیام پذیر رہے اوروہاں کے باشندے ان سے احادیث نبوی سیکھتے رہے ، وہ اہل کوفہ کے استاد بھی تھے اور قاضی

بھی ۔

       حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب بصرہ کی ا مارت پر حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ  عنہ کو مقرر کیا اور وہ وہاں پہونچے تو انہوں نے اپنے آنے کی غرض وغایت

ان الفاظ  میں بیان فرمائی ۔

       بعثنی عمر الیکم لاعلمکم کتاب ربکم وسنۃ نبیکم ۔

        مجھے حضرت عمر نے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم کو اللہ  تعالیٰ کی کتاب  اور حضور نبی

کریم کی سنت کی تعلیم دوں ۔ جل جلا لہ  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم۔

 



Total Pages: 604

Go To