$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

کے پاس ان تمام چیزوں کی سند قرآن وسنت ہی تھے ،انکے اقوال غیر اجتہادی کے بارے میں توفیصلہ ہوچکا کہ وہ حکما حدیث مرفوع ہیں ۔رہے اجتہادی مسائل توانکی بابت بھی یہ ہی کہاجاتاہے کہ وہ بھی سر چشمۂ رشدوہدایت ہیں ۔خود اللہ کے رسول  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے

فرمایا :۔

        اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم ۔(۴۲)

       میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں ، ان میں سے جسکی اقتداء کروگے ہدایت پائوگے،

صحابہ کرام نے حصول حدیث کے لئے مصائب برداشت کئے

       اس معیار پر جب انکی زندگیاں دیکھی جاتی ہیں تو ہرمسلمان بیساختہ یہ کہنے پر مجبور نظرآتاہے کہ انکی تبلیغ وہدایت محض اللہ ورسول کی رضا کیلئے تھی اپنے نفس کو دخل دینے کے وہ ہرگزروادار نہ تھے، سنت رسول کی  اشاعت اوراسکی تعلیم وتعلم میں انہوں نے  اپنا سب کچھ قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ،کسی کو حکم رسول سنانے میں نہ انہیں کوئی خوف محسوس ہوتا اور نہ کسی سے حدیث رسول سیکھنے میں  کوئی عار محسوس ہوتی تھی ،انکے یہاں شرافت  نسبی اور رفعت علمی

بھی اس چیز سے مانع نہیں تھی ۔

       حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما خاندان رسول کے ایک اہم فرد تھے ، کاشانۂ نبوت میں انکی حقیقی خالہ ام المومنین  حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا رہتی تھیں ۔وہاں شب وروز گذارنے کا بھی موقع ملتا تھا ،انہوں نے  کیا کچھ حضور سے نہیں سیکھا ہوگا ۔ حضور نے انکے لئے تفقہ فی الدین کی دعا بھی کی تھی ،لیکن ان تمام چیزوں پر تکیہ کرکے انہوں نے حضور

کے وصال اقدس کے بعد اپنے آپ کو معطل نہٰیں سمجھ لیا تھا ،خود فرماتے ہیں ۔

       میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا : ہم حضورکی صحبت سے تو اب محروم ہوگئے ہیں لیکن

اکا بر صحابہ موجود ہیں چلو ان سے ہی حضور کی احادیث سنیں اور اکتساب علم کریں ،وہ بولے ،

        یاابن عباس اتری الناس یحتاجون الیک وفی الناس من اصحاب النبی

صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

       ارے جناب ،اتنے جلیل القدر اکابر صحابہ کی موجود گی میں کسی کو کیا پڑی ہے کہ



Total Pages: 604

Go To
$footer_html