Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

مکتب میں ہی تشریف فرما ہوئے ، تقریباً پندرہ دن کے بعد جیسے ہی ان کی طبیعت بحال ہوئی تو اُنہوں نے مجھ پر بھر پور’’ انفرادی کوشِش‘‘فرمائی کہ میں پھر سے مَدَنی اِنعامات کی مجلس میں فَعّال ہوجاؤں ، اگر چِہ دیگر تنظیمی مصروفیات کی وجہ سے میں ان کے حکم پر عمل نہ کرسکا مگر ان کی مَدَنی انعامات سے محبت نے دل میں گہرا اثر چھوڑا۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۰)مدنی انعامات کے رسائل تقسیم کررہے تھے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محبوبِ عطارعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّاراپنی زندگی میں تو مَدَنی انعامات کی ترقی کے لئے کوشاں رہتے ہی تھے ، بعدِ وفات بھی خواب میں مَدَنی انعامات کے رسائل بانٹتے دیکھے گئے ، چنانچہ باب المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے:ایک رات میں اپنے معمولات سے فارغ ہو کر سویا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ مرحوم حاجی زم زم رضا عطاری میرے سامنے تشریف فرما ہیں۔انہوں نے کچھ اس طرح فرمایا کہ سرکارِ مدینہ،سُرورِ قلب وسینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مریدین کے لیے مدنی انعامات کے رسائل عطا فرمائے ہیں اور مجھے حکم ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں تقسیم کر دو،(پھر ایک رسالہ مجھے بھی

 



Total Pages: 208

Go To