Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(۵۵) مَدَنی قافِلے میں حاجی زم زم کی مَدَنی بہار

           مَدَنی انعامات کے تاجدار، محبوبِ عطار،مبلغ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ حاجی ابو جنید زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے:غالباً 1998 ء کا واقِعہ ہے، میری اہلیہ امّید سے تھیں ، دن بھی ’’پورے‘‘ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شاید آپریشن کرنا پڑیگا۔تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کا بینَ الاقوامی تین روزہ سنّتوں بھرا اجتِماع (صحرائے مدینہ ملتان) قریب تھا ۔ اجتِماع کے بعد سنّتوں کی تربیت کے30دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ سفر کی میری نیّت تھی ۔اجتِماع کیلئے روانگی کے وَقْت، زادِ قافِلہ ساتھ لیکر اَسپتال پہنچا ، چونکہ خاندان کے دیگر افراد تعاون کیلئے موجود تھے، اہلیہ مُحترمہ نے اشکبار آنکھوں سے مجھے سنّتوں بھرے اجتِماع ( مدینۃ الاولیا ء ملتان)کیلئے الوَداع کیا۔

          میرا ذِہْن یہ بنا ہوا تھا کہ اب تو مجھے بینَ الاقوامی سنّتوں بھرے اجتِماع اور پھر وہاں سے 30دن کے مَدَنی قافِلے میں ضَرور سفر کرنا ہے کاش!اس کی بَرَکت سے عافیت کے ساتھ وِلادت ہو جائے۔ مجھ غریب کے پاس تو آپریشن کے اَخراجات بھی نہیں تھے!بَہَر حال میں مدینۃ الاولیا ملتان شریف حاضِر ہو گیا۔ سنّتوں بھرے اجتِماع میں خوب گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں۔ اجتماع کی اِختِتامی رِقّت انگیز دُعا کے بعد میں نے گھر پرفون کیا تو میری امّی جان نے فرمایا:مبارَک ہو!گزَشتہ رات ربِّ کائناتعَزَّوَجَل نے بِغیر آپریشن کے تمہیں چاند سی مَدَنی مُنّی عطا

 



Total Pages: 208

Go To