Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّ وَجَلَّ ! تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کے بانی، شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت ، حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے مخصوص اندازمیں سنّتوں بھر ے بیانات اور علم و حکمت سے معمور ’’مَدَنی مُذاکرات‘‘ کے ذَرِیعے کچھ ہی عرصے میں لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں مَدَنی اِنقِلاب برپا کردیاہے، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صُحبت درحقیقت بہت بڑی نعمت ہے، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کثیر اسلامی بھائی وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر ہونے والے ’’مَدَنی مُذاکرات‘‘ میں مختلف قسم کے مثلاًعقائدو اَعمال ، فضائِل و مَنَاقِب ، شریعت و طریقت ، تاریخ وسیرت، سائنس وطِبّ ، اَخلاقیات و اِسلامی معلومات، معاشی و معاشرتی و تنظیمی معاملات اور دیگر بہت سے موضوعات کے متعلق سوالات کرتے ہیں اورشیخِ طریقت امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ انہیں حکمت آموزو عشقِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ڈُوبے ہوئے جوابات سے نوازتے اورحسبِ عادت وقتاً فوقتاً  صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!کی دِلنوازصدالگاکرحاضرین کو دُرُودشریف پڑھنے کی سعادت بھی عنایت فرماتے ہیں ۔

               میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ مدنی مذاکرے مدنی چینل پر براہِ راست بھی نشر کئے جاتے ہیں اِن ’’مَدَ نی مُذاکرات‘‘میں شرکت کرنے والے خوش نصیبوں کوعقائد و اعمال اور ظاہر و باطن کی اِصلاح ، محبتِ الٰہی  عَزَّ وَجَلَّ  و عشقِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی لازوال دولت کے ساتھ ساتھ نہ صِرْف شرعی ، طبّی، تاریخی اور تنظیمی معلومات کالاجواب خزانہ ہاتھ آتا ہے بلکہ مزیدحُصُولِ عِلْمِ دین کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے ۔ مَدَنی مذاکرے کی بے شمار بہاریں ہیں ، بطورِ ترغیب صرف دومَدَنی بہاریں پیش کرتا ہوں ۔

(۱) میں نے گناہوں سے توبہ کر لی

        واہ کینٹ (پنجاب )کے اسلامی بھائی کے بیان کا لب لباب ہے کہ بہت سے نوجوانوں کی طرح میں بھی متعدد اَخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا ۔فلمیں ڈرامے دیکھنا، کھیل کُود میں وَقْت برباد کرنا میرا محبوب مشغلہ تھا۔گھر میں مدنی چینل چلنے کی برکت سے مدنی مذاکرہ دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ !پچھلے گناہوں سے تائب ہو کر فرائض وواجبات کا عامِل بننے کے لئے کوشاں ہوں ، چہرے پرایک مٹھی داڑھی مبارکہ سجالی ہے اور مدنی حلیہ بھی اپنا لیاہے ،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کامزید کرم یہ ہوا ہے کہ والدین نے بخوشی مجھے’’ وقفِ مدینہ‘‘ کر دیا ہے۔

(۲) 200مَدَنی مذاکرے

        پشاور سے ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ یوں ہے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! تادمِ تحریرمجھے مَدَنی مذاکرے کے کم وبیش200سلسلے دیکھنے کی سعادت ملی ہے، جن میں بیان کئے جانے والے بعض مَدَنی پھول میں نے نوٹ بھی کئے ہیں ۔ مدنی مذاکروں کی برکت سے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہو گیااور گھر میں بھی مدنی ماحول قائم ہو گیا ہے، اِجتماعات میں پابندی سے شریک ہونے اور مدنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر مدنی ماہ کے پہلے دس دن کے اندر اندر جمع کرانے کا جذبہ بیدار ہوا، مزید کرم یہ ہوا کہ میرے والد محترم دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی قافلے کے مسافر بن گئے ہیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۷) شدید بیماری میں بھی نمازکی فِکر

        زم زم نگر حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی ساجِد عطّاری کا بیان ہے کہ مَدَنی انعامات کے تاجدار علیہ رحمۃُ اللہ الغفّار کا شدیدبیماری میں بھی نماز کی حفاظت کا بہت ہی ذہن تھا  ۔ ایک مرتبہ میں رات کو ان کی دیکھ بھال کے لئے اَسپتال میں موجود تھا کہ مجھ سے فرمایا :  مجھے فجر کی نماز میں اٹھا دیجئے گا۔میں نے جب فَجْر میں اذان کے بعد آپ کو آواز دی تو ایک ہی آواز پر اٹھ گئے اورمجھ سے فرمانے لگے :  ’’جَزَاکَ اللہ خَیْرًا، شکریہ بیٹا!آپ نے مجھے نماز فجر کے لئے جگایا۔‘‘میں نے یہ بھی دیکھا کہ شدید بیمار ہونے کے باوجودکہ آپ سے بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا تو آپ لیٹے لیٹے مٹّی کی پلیٹ اپنے سینے پر اُلٹی رکھ کر اس سے تَیَمُّم کرتے اور اِشاروں سے نماز ادا کرلیا کرتے ۔ میں نے نہیں دیکھا کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی بیماری کے اندر ہوش وحواس کے عالَم میں کوئی نماز چھوٹی ہو ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

شدید زخمی حالت میں نماز

        حاجی زم زم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم کا بیماری کے عالَم میں بھی نماز کی پابندی کرنا ہمیں ہمارے اکابرین  رَحِمَہُمُ اللہ المُبِینکی یاد دلاتا ہے ، تندرستی ہویا بیماری ، بُزُ رگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ المُبِیننماز کی پابندی کیا کرتے تھے چنانچہ جب حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر قاتلانہ حملہ ہوا تو عرض کی گئی، اے امیرالْمؤمنین ! نماز( کا وقت ہے) فرمایا : ’’جی ہاں ، سنئے! جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے شدید زخمی ہونے کے باوجودنماز ادا فرمائی ۔  (کتاب الکبائرص ۲۲)

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

تَیَمُّم کا اِنتظام کر لیجئے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرکبھی داخلِ اسپتال ہونے کی نوبت آئے تو نماز ہرگز نہ چھوڑی جائے ، محبوبِ عطّارکی پیروی میں ضَرورتاً تیمُّم کے لئے اینٹ یا کوری مٹّی کی پلیٹ وغیرہ ساتھ لے لی جائے ، نیز’’نمازکے احکام‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)بھی ساتھ ہوتاکہ تیمُّم کا طریقہ اورسخت بیماری میں اشارے سے نماز پڑھنے کے اَحکام وغیرہ کی معلومات حاصل کی جاسکیں ۔یاد رہے



Total Pages: 51

Go To