Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۰) ہاتھ کی سُوجن جاتی رہی

          جامشورو(باب الاسلام سندھ) میں دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار اسلامی بھائی محمد اویس عطاری کا بیان اپنے انداز والفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ اس وقت مجھے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے شاید دوہفتے ہوئے ہوں گے جب میں نے 26گھنٹے کے لئے ہونے والے مَدَنی انعامات کے تربیتی اجتماع میں شریک ہونے کی سعادت پائی ۔ اس اجتماع میں مَدَنی انعامات کے تاجدار ،محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری  اور دیگر مبلغین دعوتِ اسلامی ہماری تربیت فرمارہے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد جب حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری فنائے مسجدمیں آئے تو ایک اسلامی بھائی نے آگے بڑھ کر انہیں اپنا ہاتھ دکھایا اور عرض کی کہ بھاری سامان گرنے کی وجہ سے میرے ہاتھ پر چوٹ آئی ہے اور اس کی سُوجن نہیں جارہی جس کی وجہ سے میں اپنی ملازمت پر نہیں جاسکتا اور میری تنخواہ بھی کٹ رہی ہے ! آپ اس پر دَم کردیجئے۔حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری نے اس کے ہاتھ پر دَم کردیا ۔  جب مغرب کا وقت ہوا تو وضو خانے میں وہی اسلامی بھائی میرے برابر آبیٹھے اور اسی ہاتھ سے ٹونٹی کھولی، میں نے حیرت سے پوچھا کہ کچھ دیر پہلے تو آپ کہہ رہے تھے کہ میں اس سے کوئی کام نہیں کرپاتا! تو انہوں نے فرمایا: اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! حاجی زم

 



Total Pages: 208

Go To