Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

وابَستہ رکھیں۔‘‘ میں ان سے بڑا متأثّر ہوتا کہ یہ اتنی شدید تکلیف میں بھی مجھ پر انفرادی کوشش کررہے ہیں اوردینِ اسلام پر قائم رہنے کی تاکید فرمارہے ہیں۔میری محرومی کہ میں ان کا آخِری دیدار نہیں کرسکا، ان کے وِصال سے تین چار دن پہلے پنجاب چلا گیا تھا۔وہاں جب مجھے یہ پتا چلا کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری انتقال کرگئے ہیں تو صدمے سے چُور چُور ہو گیا کہ یہی تو تھے جو مجھے اس مَدَنی ماحول پر قائم رکھنے کے لئے فون پر رابطہ رکھتے اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی کہ یہ اسلامی بھائی کہیں بھٹک نہ جائے۔ میں نے جو آزمائشیں سہیں ان کو دور کرنے میں حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کا ہاتھ ہے۔ میں اپنے مسلمان ہونے کا سارا ثواب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کو پیش کرتاہوں اور اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! میں نے یہ نیت بھی کی ہے کہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی ساری زندگی دعوت اسلامی کے نام کردوں گا ،میرا جینا مرنا اسی مدنی ماحول میں ہوگا ۔اللہ تعالیٰ مجھے ایمان پر استقامت عطافرمائے اور مرتے وَقْت کلمہ نصیب فرمائے۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۸) محبوبِ عطّارعلیہ رحمۃُ اللہ الغفّارکا تعزیت کا انداز

جب مسلمان کسی طرح کی بھی پریشانی سے دو چار ہو جائے تو اُس کی دلجوئی کرنا اسے تسلی دینا بَہُت بڑے ثواب کاکام ہے چُنانچِہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،

 



Total Pages: 208

Go To