Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بادشاہوں کی ہڈیاں

          دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’بادشاہوں کی ہڈیاں ‘‘کے صفحہ 1پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہلکھتے ہیں : منقول ہے کہ ایک بادشاہ شکار کیلئے نکلا مگر جنگل میں اپنے مُصاحِبوں سے بچھڑ گیا۔ اُس نے ایک کمزور اور غمگین نوجوان کو دیکھا جو انسانی ہڈّیّوں کو اُلَٹ پلَٹ رہا ہے ، پوچھا: تمھاری یہ حالت کیسے ہو گئی ہے ؟ اور اس سُنسان بِیابان میں اکیلے کیا کر رہے ہو؟ ، اُس نے جواب دیا: میرا یہ حال اِس وجہ سے ہے کہ مجھے طویل سَفَردر پیش ہے۔ دو مُوَکَّل( دن اور رات کی صورت میں ) میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور مجھے خوف زدہ کر کے آگے کو دوڑا رہے ہیں یعنی جو بھی دن اور رات گزرتے ہیں وہ مجھے موت سے قریب کرتے چلے جا رہے ہیں ، میرے سامنے تنگ و تاریک تکلیفوں بھری قَبْرہے ،آہ ! گلنے سڑنے کیلئے عنقریب مجھے زیرِزمین رکھ دیا جائے گا ، ہائے !ہائے !وہاں تنگی و پریشانی ہوگی،وہاں مجھے کیڑوں کی خُوراک بننا ہوگا، میری ہڈّیّا ں جُدا جُدا ہو جائیں گی اور اسی پر اِکْتِفاء نہیں بلکہ اسکے بعدقِیامت برپا ہوگی جو کہ نہایت ہی کٹھن مرحلہ ہوگا ۔ معلوم نہیں بعد ازاں میرا جنّت ٹھکانہ ہوگا یا معاذَاﷲ جہنَّم میں جانا ہوگا ۔ تم ہی بتاؤ،جو اتنے خطرناک مَراحِل سے دوچار ہو وہ بھلا کیسے خوشی منائے ؟ یہ باتیں سن کر بادشاہ رنج و ملال سے نڈھال ہو کر گھوڑے سے اُترا اور اُسکے سامنے بیٹھ کر عرض گزار

 



Total Pages: 208

Go To