Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ پیارے بھائی !آپ کی عقیدت کا مرکز آپ کا پیر ہونا چاہیے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  مرحوم کی تُربت پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ۔

 اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۲) حافِظِ قرآن کی تعظیم

          زَم زَم نگر حیدر آباد (بابُ الاسلام سندھ ) کے اسلامی بھائی حافظ محمد ارسلان عطاری کا بیان ہے کہ اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! مجھے مَدَنی انعامات کے تاجدار ،محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری  کے ساتھ تین دن کے مَدَنی قافلے میں ٹنڈوجام (باب الاسلام سندھ)کے سفر کی سعادت ملی۔ نمازِ عشاء کے بعد جب وقفۂ آرام ہوا تو میں آرام کے لئے جس جگہ لیٹا اس طرف حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کے قدم تھے۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  نے مجھے بڑی محبت سے فرمایا:آپ حافظِ قرآن ہیں اورمجھے یہ گوارہ نہیں کہ حافظِ قرآن کی طرف پاؤں کرکے آرام کروں۔ میں نے عرض کی: حضور! کوئی بات نہیں ،آپ جیسی شخصیت کے قدموں کی سیدھ میں لیٹنا میرے لئے سعادت ہے ، مگر ان کے شفقت بھرے اِصرار پر میں وہاں سے تھوڑی دُور جاکر لیٹ گیا ،اس پر حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباریمسکرائے اور مجھے کہا: ’’جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا(یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے )‘‘

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب

 

 



Total Pages: 208

Go To