Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

موجود تھا ،بَہَرحال مجبوراً ہم نے وہ لوٹا استِعمال کرنا شروع کردیا، سُرخ رنگ کا ایک چھوٹا لوٹا بھی استنجا خانے میں موجود تھا ، جب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری ہمارے مکتب میں تشریف لاتے اور ضَرورتاً استنجا خانے میں جاتے تومجھے قرائن سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ آپ سُرخ رنگ کا لوٹا استعمال کیاکرتے اور غالباً غوثِ پاک رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے مزار شریف کے گنبد کے نیلے رنگ کی نسبت کی وجہ سے نیلا لوٹا استعمال نہیں کرتے تھے ،لیکن چونکہ استعمال کرنا ناجائز نہیں اس لئے کبھی مجھ سے اس کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی نیلے رنگ کا لوٹا استعمال کرنے سے منع کیا ۔ ؎

   ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۱) مَدَنی انعامات کے تاجدار کی عاجِزی

          مرکز الاولیاء (لاہور) کے اسلامی بھائی نے بتایا کہ تقریباًچار یا پانچ سال پہلے ایک مرتبہ ہم  امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے درِدولت کے باہَرگلی میں کھڑے تھے کہ حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہِ الباری تشریف لائے تو میں نے عقیدت سے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ چوم لئے ۔ انہوں نے عاجِزی کرتے ہوئے

 



Total Pages: 208

Go To