Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۸)مُعافی کے لئے سِفارش کروائی

          مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ،ابوبلال محمد رفیع عطاری مدظلہ العالی کا بیان ہے :حاجی زم زم رضاعطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کے وِصال سے کچھ عرصہ پہلے سردار آباد(فیصل آباد) میں خصوصی اسلامی بھائیوں کا تربیتی اجتماع ہوا ، جس کے اَخراجات کے حوالے سے کچھ تنظیمی مسائل تھے ۔اس سلسلے میں حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری نے مجھے فون کیا ، میں نے کچھ اِشکالات بیان کئے اور ان کا حکم تسلیم کر لیا۔ یہ سمجھے شایدمیں نے ان کی بات نہیں مانی اور انہوں نے دوبارہ فون کیا  مگر میں نے مصروفیت کی وجہ سے فون کاٹ دیا۔کچھ دیر بعد شہزادہ عطَّار،حضرت مولانا الحاج ابو اُسید، عبید رضا عطَّار ی المدنی مدظلہ العالی کا فون تشریف لایا تو انہوں نے کچھ یوں فرمایا کہ’’ زم زم بھائی سخت پریشان ہیں کہ آپ ان سے ناراض ہیں ،انہوں نے مجھ سے سفارش کرنے کے لئے کہا ہے کہ آپ انہیں معاف کردیں ‘‘ ، پھر حضرت مولانا عبید رضا مَدَنی مدظلہ العالی نے حاجی زم زم رضا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کو فون دے دیا تو انہوں نے خود بھی مُعافی مانگی ، میں نے اُسی وَقت وضاحت کردی کہ’’ حضور! میں آپ سے ہرگز ناراض نہیں ہوا محض مصروفیت کی وجہ سے آپ کا فون رِسیو نہیں کر سکا تھا۔‘‘ اس واقعہ سے ان کی عاجِزی اور ایذائے مُسلم سے بچنے کے بارے میں ان کے ذِہْن کاپتا چلتا ہے ۔

 



Total Pages: 208

Go To