Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ہے کہ یہ اکثر اوقات باوضو رہتے تھے۔ ان کے مزاج میں چڑچڑا پن، طنز، تنقید،جھاڑناکبھی نہ دیکھا۔مسکراہٹ اور حوصلہ افزائی میں بڑی فراخی فرماتے تھے ، گویا ہر دلعزیزشخصیت تھے۔بڑی نرمی کے ساتھ اپنا موقف بیان فرماتے،طویل دورانیہ خاموش رہتے ،ان کے ساتھ رہنے والا اُکتاہٹ کا شکار نہ ہوتا تھا ،اس کے علاوہ بھی بہت ساری خصوصیات کے حامل تھے ۔ان کا جانادعوتِ اسلامی سمیت مجھ گناہ گار کے لئے بھی بہت بڑانقصان ہے ۔ اللہ عزوجل انہیں بے حساب بخشے اور ہمیں ان کا نِعْمَ الْبَدَل عطافرمائے ۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوفِ خدا سے رونے کی فضیلت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مرحوم حاجی زم زم رضاکی گریہ وزاری بارگاہِ ربِّ باری عَزَّوَجَلَّمیں قبول ہوگئی تو ان کا بیڑا پار ہوگا کیونکہ  فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: جس مُؤْمِن کی آنکھوں سےاللہ عزوجل کے خوف سے آنسو  نکلتے ہیں اگرچِہ مکّھی کے سرکے برابر ہوں ،پھر وہ آنسو اُس کے چِہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تو اللہ عزوجلاُسے جہنَّم پر حرام کر دیتا ہے ۔   (شُعَبُ الْاِیمان، ۱/۴۹۱،الحدیث ۸۰۲ )

           ایک مرتبہ سروَر ِ کونین، رَحمتِ دارین، نانائے حَسَنَینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےخُطبہ دیا تو حاضِرین میں سے ایک شخص رو پڑا ۔ یہ دیکھ کر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اگر آج تمہارے درمیان وہ تمام مُؤمِن موجود ہوتے جن کے گناہ

 

 



Total Pages: 208

Go To