Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

نظر سے مجھے مَدَنی ماحول نصیب ہوا۔(سلسلہ ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ ۵ محرم الحرام ۱۴۳۲ھ بمطابق12دسمبر2010ء، بتصرف)

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

دعوتِ اسلامی میں ذمّے داریوں کی تفصیل

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد حیدر آباد میں اپنے علاقے ’’ہِیر آباد‘‘کی مسجد میں مَدَنی کام شروع کیا، پھر طویل عرصہ عَلاقہ ’’چل مدینہ ‘‘کے عَلاقائی نگران رہے ، پھر زم زم نگر(حیدر آباد) میں چارذمّے دار برائے کارکردگی مقرَّر کئے گئے تھے جن میں سے ایک حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریتھے ۔مرکزی مجلس شوریٰ بننے سے پہلے ہی یہ ’’مَدَنی انعامات‘‘کی ترغیب وتربیت کے لئے مختلف علاقوں اور شہروں میں جایا کرتے تھے ۔2002ء میں انہیں باب الاسلام(سندھ)کی مشاورت کا رُکن بنایاگیا تھا ، پھر مرکزی مجلس شوریٰ کے تحت پاکستان انتِظامی کابینہ بنی تو یہ بھی اس کے رکن بنے اور ۱۵رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ بمطابق 30اکتوبر 2004 ء کو مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بنے اور تادمِ آخر رُکن شورٰی رہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

محبوبِ عطّارکی تنظیمی ذمّے داریاں

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریکے پاس (۱)مَدَنی اِنْعامات (۲) لنگرِ رسائل (۳) خصوصی یعنی گونگے بہرے اسلامی بھائیو ں (۴)مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کی شوریٰ کی طرف سے عالمی سطح پر ذمّے داری تھی ، اس کے علاوہ یہ (۱)اسلامی بہنوں کے مَدَنی کاموں (۲)رکن مجلس بیرون ملک ، (۳)مجلس اجرائے کتب ورسائل (علمیہ)اور (۴)مَدَنی بہاروں وغیرہ کے بھی ذمے دار رہے ہیں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰) محبوبِ عطّار کی اپنے پیرومُرشِد سے عقیدت

        حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکو اپنے پیرو مُرشِد پندرھویں صدی کی عظیم علمی ورُوحانی شخصیت شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بہت بہت بہت عقیدت ومحبت تھی ۔باپا کا پیغام ان کے لئے گویا حرفِ آخر ہوتا تھا، اس پر بلاچون وچرا کے عمل کیا کرتے تھے ۔زم زم نگر (حیدر آباد، باب الاسلام سندھ پاکستان)میں طویل عرصے تک حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکے محلے میں رہنے والے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ تقریباً20برس پہلے بھی محبوبِ عطاررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اپنے مرُشد امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مَحبّت کا یہ عالَم تھا کہ جب یہ عشقِ مرُشِد میں آنسو بہاتے تو ہم ڈر جاتے کہ کہیں ان کو کچھ ہو نہ جائے ، اسی طرح جب یہ کوئی منقبتِ عطّار لکھتے تو میرے پاس آتے کہ اسے طرز میں پڑھو ، جب میں پڑھتا تو یہ آنسو بہایا کرتے تھے ، مَدَنی انعامات کے بارے میں ہمیں لگتا کہ ان پر عمل کرنا بہت دشوار ہے لیکن یہ مردِ قلندرمَدَنی انعامات پر عمل کرنے اور ان کی ترغیب دینے میں لگے رہتے۔باپا(یعنی امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ) سے ان کی عقیدت گویا پتھر پر لکیر تھی ، ان کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ اگر میں باپا کے فرمان پر عمل نہ کرسکا تو مرجاؤں گا ۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ باپا کی جانب سے اسلامی بھائیوں کو غالباً اس طرح تاکید کی گئی کہ رات بارہ بجے سے پہلے گھر پہنچ جایا کریں تو میں نے کئی مرتبہ دیکھا کہ یہ کسی جگہ بھی موجود ہوتے لیکن وہاں سے گھڑی کا ٹائم دیکھ کر چل پڑتے اور ٹھیک بارہ بجے اپنے گھر میں ہوتے ۔ان کا جذبہ تھا کہ میں ہر اسلامی بھائی کو اپنے پیرومُرشِد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا مُرید کروا دوں ، چنانچہ جس سے ایک دومِنَٹ کے لئے راستے میں بھی ملاقات ہوتی تو اسے مریدِ عطّار بننے کی ترغیب دے کر اس کا نام بیعت کروانے کے لئے لکھ لیا کرتے تھے  ۔ ان سے تعلق رکھنے والوں ، رشتے داروں دوست احباب میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا مُرید نہ ہو  ۔ میرا گمان ہے کہ انفرادی کوشش سے جنہوں نے سب سے زیادہ عطّاری بنائے ہوں گے اُن سب میں زم زم بھائی کا پہلا نمبر ہوگا۔

(۱۱) چھپ چھپ کر زیارت کیا کرتے

        اسی اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے کہ برسوں پہلے کی بات ہے کہ محبوبِ عطّار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّار حیدر آباد سے قافلے کی صورت میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے لیکن امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سامنے بیٹھنے والے اسلامی بھائیوں میں تشریف فرما نہیں ہوتے تھے بلکہ ہم ان کو ڈھونڈتے تو یہ کسی ستون کے پیچھے بڑے باادب انداز میں کھڑے ہوتے اور چھپ چھپ کر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زیارت کیاکرتے ۔ان کے ساتھ رہنے والا بھی باپا کا عاشق بن جاتا تھا ، یہ گویا اس کو عشقِ مُرشِد گھول کر پلا دیا کرتے تھے  ۔ میراحسنِ ظن ہے کہ ان کو یہ بلند مقام مُرشِد سے محبت کے صدقے میں ملا ہے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۲) عیدیں اور بڑی راتیں باپا کی صُحبت میں گزارتے

         حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کو شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبت میں رہنے کی بڑی تمنا ہوتی تھی چنانچِہ یہ عید الفطر، عیدالاضحی باپا کے ساتھ گزارتے ، ربیع الاول شریف میں باپا کے ساتھ جشنِ ولادت مناتے اور جلوسِ میلاد میں شریک ہوتے ، شبِ براء ت، شبِ معراج اور 26رَمَضان کوباپا کے یومِ ولادت پر یہ عُمُوماًامیرِ اہلسنّت  دَامَتْ



Total Pages: 51

Go To